یہ مسئلہ میرے ایک دوست اور اس کی فیملی کے حج سے متعلق ہے ، وہ یوم النحر کو صبح صادق اور طلوعِ آفتاب کے درمیان مزدلفہ میں صرف پانچ منٹ کے لیے بھی وقوف نہ کر سکے، کیونکہ اسے مجبور کیا گیا کہ ان کے پاس چھوٹے بچے اور خواتینکی جماعت ہے ، اس لیے وہ مزدلفہ رات 12:30 مزدلفہ چھوڑ کر چلے جائیں ، تو وہ فجر کی نماز مزدلفہ میں نہ پڑھ سکے ، ایک مفتی صاحب نےکہا کہ انکو بچو اور عورتوں کو منیٰ چھو ڑکر دوبار وقوفِ مزدلفہ کے لیے آنا چاہیے تھا۔ لیکن جب وہ نہیں آئے تو ان پر دم لازم ہے ، جبکہ ایک مفتی صاحب نے کہا کہ دم کی ضرورت نہیں۔ جبکہ دونوں دیو بندی ہیں اور کشمیر میں بڑے مفتی ہیں۔ اب کیا کرنا چاہیے؟
مذکور افراد میں سے خواتین اور جو ضعیف العمر یا بیمار د مر د تھے ، انہوں نے کسی عذر مثلاً ضعف ، بیماری وغیرہ کی وجہ سے وقوفِ مزدلفہ ترک کر دیا ہو تو عذر کی وجہ سے ان پر کوئی دم لازم نہیں آتا۔ البتہ ان کے علاوہ جن مردوں نے فقط ان کے ساتھ جانے کی وجہ سے و قوفِ مزدلفہ مکمل طور پر چھوڑ دیا ہے ، ان پر دم لازم ہے۔ جس کی ادائیگی حدودِ حرم میں ہی لازم ہے۔
كما فی مسند احمد : عن ابن عباس رضى الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلمقدم ضعفة ابله اھ (344/1)۔
وفی غنيةالناسك : ولوتركالوقوففدفعليلافعليهدمالااذاكانلعذربانيكون به ضعف أو علة أو كانت امرأة تخاف الزحام فلا شيء عليه اھ (ص (89)۔