احکام حج

قرض لیکر حج پر جانا

فتوی نمبر :
23458
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

قرض لیکر حج پر جانا

کیا کسی سے قرض لےکر حج پر جا سکتے ہیں اور واپسی آنے کے بعد تھوڑا ، تھوڑا کر کے قرض کی رقم ادا کر سکتے ہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر حج فرض ہو چکا ہو اور اپنے پاس نقدی موجود نہ ہو تو کسی سے قرض لےکر بھی حج ادا کرنا لازم ہے، ورنہ نفلی حج کے لیےقرض کا بوجھ اپنے سر لینے سے احتراز چاہیئے اگر چہ اس صورت میں بھی حج درست ادا ہو جائے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر : وقالوا لو لم يحج حتى أتلف ماله وسعه أن يستقرض ويحج ولو غير قادر على وفائه ويرجى أن لا يؤاخذه الله بذلك، أي لو ناويا وفاء إذا قدر كما قيده في الظهيرية اھ ۔
و فی الرد تحت : (قوله وسعه أن يستقرض إلخ) أي جاز له ذلك وقيل يلزمه الاستقراض كما في لباب المناسك قال منلا على القاري في شرحه عليه، وهو رواية عن أبي يوسف وضعفه ظاهر فإن تحمل حقوق الله تعالى أخف من ثقل حقوق العباد اهـ.قلت: وهذا يرد على القول الأول أیضاً إن كان المراد بقوله ولو غير قادر على وفائه أن يعلم أنه ليس له جهة وفاء أصلا أما لو علم أنه غير قادر في الحال وغلب على ظنه أنه لو اجتهد قدر على الوفاء فلا يرد اھ (2/457)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 23458کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات