میں اپنے خرچے پر اپنے دادا کی طرف سے حجِ بدل کرنا چاہتا ہوں،پڑھا ہے کہ جو شخص حجِ بدل (فرض) کرنا چاہ رہا ہو اس کا تمام خرچہ وہ شخص دےگا جس کی طرف سے حجِ بدل کیا جا رہا ہے ، میرے دادا کا انتقال کئی سال پہلے ہو چکا ہے اور انہوں نے اس سلسلے میں وصیت بھی نہیں کی، تو مجھے کیا کرنا چاہیے ؟
سائل کے دادا نے جب اپنی طرف سے حج کرنے کی وصیت نہیں کی تھی تو سائل پر ان کی طرفسے حجِ بدل کرنا واجب نہیں ، البتہ وہ اپنی مرضی و خوشیسے ذاتی رقم سے دادا کی طرف سے حج کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔
کما فی الہندیة : من عليه الحج إذا مات قبل أدائه فإن مات عن غير وصية يأثم بلا
خلاف وإن أحب الوارث أن يحج عنه حج وأرجو أن يجزئه ذلك إن شاء الله تعالى، كذا ذكر أبو حنيفة - رحمه الله تعالى –وإن مات عن وصية لا يسقط الحج عنہ وإذا حج عنه يجوز عندنا باستجماع شرائط الجواز وهي نية الحج اھ (1/258)۔