احکام حج

دادا کی طرف سے حج بدل

فتوی نمبر :
19636
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

دادا کی طرف سے حج بدل

میں اپنے خرچے پر اپنے دادا کی طرف سے حجِ بدل کرنا چاہتا ہوں،پڑھا ہے کہ جو شخص حجِ بدل (فرض) کرنا چاہ رہا ہو اس کا تمام خرچہ وہ شخص دےگا جس کی طرف سے حجِ بدل کیا جا رہا ہے ، میرے دادا کا انتقال کئی سال پہلے ہو چکا ہے اور انہوں نے اس سلسلے میں وصیت بھی نہیں کی، تو مجھے کیا کرنا چاہیے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کے دادا نے جب اپنی طرف سے حج کرنے کی وصیت نہیں کی تھی تو سائل پر ان کی طرفسے حجِ بدل کرنا واجب نہیں ، البتہ وہ اپنی مرضی و خوشیسے ذاتی رقم سے دادا کی طرف سے حج کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الہندیة : من عليه الحج إذا مات قبل أدائه فإن مات عن غير وصية يأثم بلا
خلاف وإن أحب الوارث أن يحج عنه حج وأرجو أن يجزئه ذلك إن شاء الله تعالى، كذا ذكر أبو حنيفة - رحمه الله تعالى –وإن مات عن وصية لا يسقط الحج عنہ وإذا حج عنه يجوز عندنا باستجماع شرائط الجواز وهي نية الحج اھ (1/258)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 19636کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات