احکام حج

پچپن سالہ سالی کا بہنوئی کے ساتھ حج پر جانا

فتوی نمبر :
25293
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

پچپن سالہ سالی کا بہنوئی کے ساتھ حج پر جانا

ایک آدمی کے ہمراہ اس کی بیوی اور ساس حج پر جانا چاہتی ہیں اور اس کے ساتھ ایک پچپن سالہ سالی بھی ہے ،کیا یہ سالی اپنی بہن اور اس کے شوہر کے ساتھ حج پر جاسکتی ہے ؟ حتیٰ کہ بہن کا شوہر محرمات میں شامل ہے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

عورت خواہ جوان ہو یا بوڑھی اس کے لیے حج پر جانے کے لیے محرم کا ساتھ ہونا شرط ہے ،جبکہ بہنوئی محرم نہیں ہے ،اس لیے سالی اس کے ساتھ نہیں جاسکتی ،البتہ ساس اگر بوڑھی ہو تو اس کا اپنے داماد کے ساتھ سفرِ حج پر جانا درست ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الہندیة : (ومنها المحرم للمرأة) شابة كانت أو عجوزاإذا كانت بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام هكذا فی المحيط، وإن كان أقل من ذلك حجت بغير محرم كذا فی البدائع والمحرم الزوج، ومن لا يجوز مناكحتها على التأبيد بقرابة أو رضاع أو مصاهرة كذا فی الخلاصة ويشترط أن يكون مأمونا عاقلا بالغا حرا كان أو عبدا كافرا كان أو مسلما هكذا فی فتاوى قاضي خان اھ (1/218)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 25293کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات