احکام حج

حج بدل کی شرائط اور کسی زندہ کی طرف سے طواف کرنا

فتوی نمبر :
51060
| تاریخ :
2022-07-01
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

حج بدل کی شرائط اور کسی زندہ کی طرف سے طواف کرنا

۱۔ حج بدل کے لئے کیا شرائط میں
۲۔ طواف کعبہ کیا کسی زندہ کے لئے بھی کیا جاسکتا ہے؟ اور کیا ایک سے زائدہ بندہ کی طرف سے ایک ہی طواف ادا کیا جاسکتا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

حج بدل کے لیے فقہاء کرام نے درج ذیل شرائط بیان کئے ہیں:
(۱) آمر یعنی حج کرانے والے پر حج فرض ہو چکا ہو اور وہ حج کی ادائیگی پر قادر نہ ہو (۲) جس عذر کی وجہ سے وہ حج ادا نہیں کر سکتا وہ دائمی ہو (۳) حج بدل کرانے سے پہلے عاجز ہو (۴) حج بدل کرانے کے لیے خود کسی کو مقرر کر گیا ہو یا اس کی وصیت کی ہو (۵) اگر میت نے حج بدل کی وصیت میں کسی خاص شخص کو متعین کیا ہے تو اس متعیّن شخص کا حج کرناضروری ہے، الا یہ کہ کوئی معقول عذر ہو (۶) مامور کا مسلمان عاقل بالغ ہونا (۷) آمر کے وطن سے سفر شروع کرنا (اگر آمر کے کئی وطن ہوں تو اس وطن کا اعتبار ہو گا جو بنسبت دوسرے کے مکہ مکرمہ کے قریب ہو (۸) احرام باندھتے وقت مامور کا آمر کی طرف سے حج کی نیت کرنا (۹) مامور کا آمر کی طرف سے خود حج کرنا دوسرے سے نہ کرانا (۱۰) حج بدل پر کسی قسم کی اجرت و معاوضہ نہ لینا (۱۱) اکثر سفر میں آمر کا مال خرچ کرنا (۱۲) سفر کا اکثر حصہ سواری سے طے کرنا (۱۳) حج کو فاسد نہ کرنا، اگر حج بدل کو فاسد کر دیا تو آمر کی طرف سے نہیں ہو گا، بلکہ مامور کی طرف سے ادا ہو جائیگا (۱۴) آمر کے حکم کی مخالفت نہ کرنا مثلاً اگر اس نے حج افراد کا حکم دیا ہے اور مامور نے اپنی مرضی سے حج قرآن یا حج تمتع کر لیا تو یہ حج آمر کی طرف سے نہیں ہو گا، البتہ اگر خود آمر یا وصی حج تمتع یا قرآن کی اجازت دے تو گنجائش ہے (۱۵) ایک سفر میں ایک ہی حج کا احرام باندھنا ہو گا،لہذا اگر مامور نے آمر کے احرام کے بعد اپنے حج کا بھی احرام باندھ لیا تو آمر کا حج ادانہ ہو گا (۱۶) ایک احرام میں دو شخصوں کی نیت نہ کرنا لہٰذا اگر مثلا دو آدمیوں نے مامور کو حج بدل کا حکم دیا اور اس نے سفر میں دونوں آمروں کی طرف سے نیت کر لی تو ان آمروں میں سے کسی کی طرف سے بھی حج ادانہ ہو گا (۱۷) حج کا فوت نہ ہونا۔
لہٰذا مندرجہ بالا شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے اگر کوئی شخص کسی زندہ یا مردہ شخص کی طرف سے حج بدل کرے تو حج بدل کی ادائیگی درست ہو گی، لیکن اگر کسی شخص کو دو یا دو سے زائد افراد نے حج بدل کے لیے مامور کیا ہے ، تو اس کا ایک ہی احرام میں دو یا دو سے زائد بندوں کی طرف سے حج کی نیت کرنا درست نہیں (جیسا کہ شرط نمبر ۱۶ میں لکھا گیا، لہذا اگر کسی شخص نے ایسا کر دیا تو کسی ایک کی حج بھی درست ادانہ ہوگی۔
طواف کعبہ کسی زندہ شخص کے لیے بھی کیا جاسکتا ہے، اس طرح ایک سے زائد افراد کے لیے بھی ایک طواف کر کے اس کا ثواب ان کو بخشا جا سکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي سنن أبي داود: عن ابن عباس، أن النبي صلى الله عليه وسلم سمع رجلا يقول: لبيك عن شبرمة، قال: «من شبرمة؟» قال: أخ لي - أو قريب لي - قال: «حججت عن نفسك؟» قال: لا، قال: «حج عن نفسك ثم حج عن شبرمة» اھ (2/ 162)
وفى بذل المجهود: واختلف في أن من لم يحج عن نفسه، هل يجوز له أن يحج عن غيره؟ (إلی قوله) وعند الحنفية: يكره له ما لم يحج عن نفسه. واستدل المانعون بحديث ابن عباس هذا، وقالوا: هذا الحديث يدل على أنه يجب عليه أن يحج عن نفسه ثم يحج عن غيره. اھ (7/158)
وفي حاشية ابن عابدين: والثامن وجوب الحج، فلو أحج الفقير أو غيره ممن لم يجب عليه الحج عن الفرض لم يجز حج غيره عنه وإن وجب بعد ذلك. التاسع وجود العذر قبل الإحجاج، فلو أحج صحيح ثم عجز لا يجزيه. العاشر أن يحج راكبا، فلو حج ماشيا ولو بأمره ضمن النفقة، والمعتبر ركوب أكثر الطريق إلا إن ضاقت النفقة فحج ماشيا جاز. (2/ 600)
وفیه أیضاً: لا يجوز الاستئجار على الحج، فلو دفع إليه الأجر فحج يجوز عن الميت وله من الأجر مقدار نفقة الطريق ويرد الفضل على الورثة إلا إذا تبرع به الورثة أو أوصى الميت بأن الفضل للحاج اهـ ملخصا. (2/ 601)
وفي الدر المختار: وبقي من الشرائط النفقة من مال الآمر كلها أو أكثرها وحج المأمور بنفسه وتعينه إن عينه اھ (2/ 600)
وفي التاتارخانية: وفى الذخيره ثم إنما يسقط فرض الحج عن الإنسان باحجاج غيره إذا المحج وقت الاداء عاجزا عن الاداء بنفسه ودام عجزه الى ان مات أما إذا زال عجزه بعد ذلك فلا يسقط عنه الحج الفرضى اھ (2/545)
وفی حاشية ابن عابدين: ولو زار قبر صديق أو قريب له وقرأ عنده شيئا من القرآن فهو حسن اھ (6/ 57)
وفيه ايضاً: صرح علماؤنا في باب الحج عن الغير بأن للإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو غيرها كذا في الهداية، بل في زكاة التتارخانية عن المحيط: الأفضل لمن يتصدق نفلا أن ينوي لجميع المؤمنين والمؤمنات لأنها تصل إليهم ولا ينقص من أجره شيء اهـ هو مذهب أهل السنة والجماعة اھ (2/ 243)
وفي حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: فلإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره عند أهل السنة والجماعة صلاة أو صوما أو حجا أو صدقة أو قراءة قرآن أو الأذكار أو غير ذلك من أنواع البر ويصل ذلك إلى الميت وينفعه اھ (ص: 622)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شاہنواز قائم الدین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 51060کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات