احکام حج

کیا مسجد نبوی میں چالیس نمازوں کا ادا کرنا حج وعمرہ کی تکمیل کے لیے ضروری ہے؟

فتوی نمبر :
61464
| تاریخ :
2008-08-27
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

کیا مسجد نبوی میں چالیس نمازوں کا ادا کرنا حج وعمرہ کی تکمیل کے لیے ضروری ہے؟

ایک شخص جو پہلی بار حج و عمرہ پر جائے تو کیا اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ مسجد نبویؐ میں چالیس نمازیں ادا کرے؟کیا چالیس نمازوں کا ادا کرنا حج یا عمرہ کی تکمیل کے لیے ضروری ہے؟ یہ سنت ہے یا مستحب؟
اگر ایک شخص چالیس نمازیں ادا نہ کر سکے تو کیا اس کا حج یا عمرہ ادا نہیں ہوگا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ادائیگئی حج و عمرہ کی صحت کے لیے مسجدِ نبویؐ میں چالیس نمازیں ادا کرنا شرعاً لازم اور ضروری نہیں اور نہ ہی حج وعمرہ کی تکمیل اس پر موقوف ہے، البتہ یہ بلاشبہ مستحب عمل ہے بصورت وسعتِ وقت اس کا ضرور اہتمام چاہیے، جبکہ مسجد نبویؐ میں پڑھی گئی نماز عام مواقع میں پڑھی جانے والی نماز سے ایک ہزار اور بعض روایات میں پچاس ہزار گنا بہتر اور افضل شمار ہوتی ہے، اس لیے اس کی ادائیگی باعثِ خیر ہی خیر ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی سنن الترمذي: عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال: «صلاة في مسجدي هذا خير من ألف صلاة فيما سواه، إلا المسجد الحرام» (2/ 147)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 61464کی تصدیق کریں
0     1394
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات