ایک آدمی کے ہمراہ اس کی بیوی اور ساس حج پر جانا چاہتی ہیں اور اس کے ساتھ ایک پچپن سالہ سالی بھی ہے ،کیا یہ سالی اپنی بہن اور اس کے شوہر کے ساتھ حج پر جاسکتی ہے ؟ حتیٰ کہ بہن کا شوہر محرمات میں شامل ہے ۔
عورت خواہ جوان ہو یا بوڑھی اس کے لیے حج پر جانے کے لیے محرم کا ساتھ ہونا شرط ہے ،جبکہ بہنوئی محرم نہیں ہے ،اس لیے سالی اس کے ساتھ نہیں جاسکتی ،البتہ ساس اگر بوڑھی ہو تو اس کا اپنے داماد کے ساتھ سفرِ حج پر جانا درست ہے ۔
کما فی الہندیة : (ومنها المحرم للمرأة) شابة كانت أو عجوزاإذا كانت بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام هكذا فی المحيط، وإن كان أقل من ذلك حجت بغير محرم كذا فی البدائع والمحرم الزوج، ومن لا يجوز مناكحتها على التأبيد بقرابة أو رضاع أو مصاهرة كذا فی الخلاصة ويشترط أن يكون مأمونا عاقلا بالغا حرا كان أو عبدا كافرا كان أو مسلما هكذا فی فتاوى قاضي خان اھ (1/218)۔