نکاح

لڑکی کا نکا ح کرنے کے بعد رخصتی سے قبل لڑکے سے طلاق کا مطالبہ کرنا کیسا ہے؟

فتوی نمبر :
99288
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

لڑکی کا نکا ح کرنے کے بعد رخصتی سے قبل لڑکے سے طلاق کا مطالبہ کرنا کیسا ہے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!میرا نام سید حسن علی ہے، اور میرا تعلق کراچی سے ہے، میں آپ سے ایک نہایت اہم اور ذاتی مسئلے میں شرعی رہنمائی کا طلبگار ہوں،کچھ عرصہ قبل میں نے ایک لڑکی سے نکاح کیا، جو مجھ سے 10 سال بڑی ہے، نکاح کا طریقہ کار درج ذیل تھا، لڑکی نے فون پر میرے ایک دوست کو گواہ بھی بنایا ،اور اسی کو اپنا وکیل بھی مقرر کیا، نکاح ایک جگہ براہِ راست (فزیکلی) انجام پایا، جہاں میں، میرا کزن (جو عاقل، بالغ ہے اور نکاح پڑھانے والا تھا)اور دو گواہ موجود تھے،لڑکی خود موجود نہیں تھی، لیکن اس کا وکیل موجود تھا، جس نے اس کی طرف سے ایجاب (پیشکش) کیا، میں نے اس ایجاب کو قبو ل کیا، اور یہ سارا عمل گواہوں کے سامنے مکمل ہوا، مہر کا بھی تعین کیا گیا تھا،اب میرے کچھ اہم سوالات ہیں: کیا یہ نکاح شرعاً صحیح ہے؟ کیا لڑکی کی غیر موجودگی میں وکیل کے ذریعے نکاح کرنا فقہ حنفی کے مطابق جائز ہے؟ میرے گھر والے اس وقت نکاح کے لیے راضی نہیں تھے، ان کا کہنا تھا کہ ہم 2 سال بعد نکاح کریں گے، لیکن میں حرام تعلق سے بچنا چاہتا تھا، اس لیے یہ قدم اٹھایا،لڑکی کے گھر والے راضی تھے، لیکن وہ بھی چاہتے تھے کہ نکاح دونوں خاندانوں کی رضامندی سے ہو،اب صورتحال یہ ہے کہ لڑکی مجھ سے دور ہونا چاہتی ہے، اور کہتی ہے کہ وہ اس رشتے کو جاری نہیں رکھ سکتی، اس صورت میں اگر نکاح شرعی طور پر درست ہے تو کیا مجھے طلاق یا خلع دینا ہوگا؟ اور اگر نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوا تو کیا ہمارے درمیان کوئی شرعی رشتہ قائم ہوا تھا؟ ایک اور بات عرض کرنا چاہتا ہوں، میں فقہ حنفی کا پیروکار ہوں ،اور مفتی طارق مسعود صاحب کی تعلیمات سے رہنمائی لیتا ہوں، لڑکی کو فقہ کا زیادہ علم نہیں، بعض اوقات شیعہ مجالس میں بھی چلی جاتی ہے اور کبھی عام سنی طرز پر بھی چلتی ہے، یعنی وہ کسی ایک فقہی یا مسلکی طرز پر مستقل نہیں ہے، براہِ کرم ان تمام تفصیلات کی روشنی میں مجھے واضح اور مکمل شرعی جواب مرحمت فرمائیں، تاکہ میں اس مشکل وقت میں درست فیصلہ کر سکوں،اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کے لیے والدین کی رضامندی کے بغیر اس طرح چھپ کر نکاح کرنا تو مناسب نہیں تھا ،تاہم یہ نکاح اگر لڑکی کے والدین کی رضامندی سے طے پایا تھا ، اور لڑکی نے کسی کو اپنے نکاح کا وکیل مقرر کیا تھا، جس نے باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں لڑکی کی طرف سے ایجاب کیا اور سائل نے اس نکاح کو قبول کیا تو شرعا یہ نکاح درست منعقد ہو چکا ہے ، چنانچہ اب نکاح منعقد ہو نے کے بعد سائل کی بیوی کا اس رشتے کو برقرار نہ رکھنا ،اور بلاوجہ شرعی بیوی کا سائل سے طلاق کا مطالبہ کرنا درست نہیں ، البتہ اگر کوئی عذر ہو ،اور دونوں کے لیے نباہ کی کوئی صورت ممکن نہ ہو تو باہمی رضامندی سے خلع یا طلاق کے ذریعہ علیحدگی حاصل کی جاسکتی ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالی: فإن خفتم ألاّ یقیما حدود اللہ فلا جناح علیھما فیما افتدت بہ تلک حدود اللہ فلا تعتدوھا و من یتعد حدود اللہ فأولئک ھم الظلمون ألآیۃ(سورۃ البقرۃ آیت :229)۔
و فی مشکاۃ المصابیح: عن ثوبان رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ أیما إمرأۃ سألت زوجھا طلاقاً فی غیر ما بأس فحرام علیھا رائحۃ الجنۃ ( باب الخلع و الطلاق ، الفصل الثانی ج: 2، ص:283،ط: قدیمی کتب خانۃ)۔
کما فی الدر المختار: و ینعقد متلبسا ( بإیجاب ) من أحدھما ( و قبول) من الآخر ( و ضعا للمضی ) لأن الماضی أدل علی التحقیق ( کزوجت ) نفسی أو بنتی أو موکلنی منک ( و) یقول للآخر ( تزوجت ) الخ ( کتاب النکاح ج: 3، ص:9، ط: سعید )۔
وفی الھدایہ: ولاینعقد نکاح المسلمین الا بحضور شاھدین حرین عاقلین بالغین مسلمین رجلین اور جل وامر اتین عدولا کانوا اوغیر عدول او محدودین فی القذف قال اعلم ان الشھادہ شرط فی باب النکاح لقولہ علیہ الصلوۃالسلام لانکاح إلا بشھود الخ ( کتاب النکاح، ج:31،ص: 306،ط: شرکت علمیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محسن نثار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 99288کی تصدیق کریں
0     15
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات