السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! خدمت عالیہ میں عرض ہے کہ ہم سعودیہ عربیہ میں بغرضِ ملازمت مقیم ہیں ، موسم حج قریب ہے، حج کا ارادہ بھی ہے، لیکن قانونی مشکلیں بہت ہیں ،اور مصروفیت بھی بہت ہیں ،کیا بلا اجازت حکومتِ سعود یہ حج کرنےکی صورت میں حج ادا ہو گا یا نہیں ؟ نیز جو از اور عدمِ جواز کا کیا حکم ہے ؟ مفصّل جواب عنایت فرمائیں ، جزاکم اللہ
حکومت کی پابندی یا اسکی اجازت کے بغیر حج کرنے کی صورت میں بھی شرعاً حج درست ہو جائے گا ، مگر یہ پابندی محض امرِ انتظامی کی وجہ سے ہے ، اس لیے بلاوجہ اسکی مخالفت سے احتراز کرنا چاہیے۔
ما فی الرد تحت : (قوله أمر السلطان إنما ينفذ) أي يتبع ولا تجوز مخالفته وسيأتي قبيل الشهادات عند قوله أمرك قاض بقطع أو رجم إلخ التعليل بوجوب طاعة ولي الأمر وفي ط عن الحموي أن صاحب البحر ذكر ناقلا عن أئمتنا أن طاعة الإمام في غير معصية واجبة اھ (5/422)۔
و فیه أیضاً تحت : (قوله كالحج بمال حرام)فقد يقال إن الحج نفسه الذي هو زيارة مكان مخصوص إلخ ليس حراما بل الحرام هو إنفاق المال الحرام، ولا تلازم بينهما، كما أن الصلاة في الأرض المغصوبة تقع فرضا، وإنما الحرام شغل المكان المغصوب لا من حيث كون الفعل صلاة لأن الفرض لا يمكن اتصافه بالحرمة، اھ (2/456)۔