السلام علیکم اگر بیوی خود طلاق مانگے اور کہے کہ طلاق دو گے تو بچے سے ملنے دوں گی ورنہ میں خلع لے لوں گی اور بچے سے پھر کورٹ میں آکر ملنا۔ ایسی صورت میں اگر باہمی طلاق کے معاہدےمیں یہ شرط رکھی جائے کہ اسے حق مہر چھوڑنا ہوگا (جو کہ قانونی طور پر غلط نہیں ہے)۔ اس کا حق مہر 3 لاکھ غیر مؤجل ہے جس میں سے دو لاکھ ادا شدہ ہے۔ اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر کوتاہی بیوی کی جانب سے ہو، اور شوہر مہر کے عوض خلع پر رضامند ہوجائے، تو ایسی صورت میں جو عوض طے ہاجائے، تو عورت پر خلع کے عوض وہ تمام مقرر شدہ مقدار ادا کرنا لازم ہوگا، جبکہ میاں بیوی کی جدائی ہوجان کی صورت والدہ کابچوں کو اپنے تحویل میں لے کر والد کو اپنے بچوں سے ملنے نہ دینا ناجائز و حرام اور شرعاً قطع رحمی کےزمرے میں آتا ہے، جس سے وادہ کو احتراز لازم ہے، بلکہ والد جب چاہے اپنے بچوں سے جب چاہے مل سکتا ہے، بصورتِ دیگر اسے قانونی چارہ جوئی کاحق بھی حاصل ہوگا۔
کمافی الھندیۃ: إن خالعها على مهرها فإن كانت المرأة مدخولا بها وقد قبضت مهرها يرجع الزوج عليها بمهرها وإن لم يكن مقبوضا سقط عن الزوج جميع المهر ولا يتبع أحدهما صاحبه بشيء الخ۔ ( باب الثامن فی الخلع، ج: 1، ص: 489، ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: إن خالعها على مهرها فإن كانت المرأة مدخولا بها وقد قبضت مهرها يرجع الزوج عليها بمهرها وإن لم يكن مقبوضا سقط عن الزوج جميع المهر ولا يتبع أحدهما صاحبه بشيء الخ۔ ( باب الثامن فی الخلع، ج: 1، ص: 489، ط: ماجدیۃ)۔
وفی الھدایۃ: وإن طلقها على مال فقبلت وقع الطلاق ولزمها المال " لأن الزوج يستبد بالطلاق تنجيزا وتعليقا وقد علقه بقبولها والمرأة تملك التزام المال لولايتها على نفسها وملك النكاح مما يجوز الاعتياض عنه وإن لم يكن مالا كالقصاص وكان الطلاق بائنا الخ۔ (باب الخلع، ج: 2، ص: 361، ط: دارالأحیاء التراث)۔
وفی الھندیۃ: الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعاهده كذا في التتارخانية ناقلا عن الحاوي. الخ۔ (الباب السادس عشر في الحضانة، ج: 1، ص: 543، ط: ماجدیۃ)۔