گناہ و ناجائز

کیا بلا اختیار نفسانی خواہشات ابھرنے سے گناہ ہوگا؟

فتوی نمبر :
9879
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کیا بلا اختیار نفسانی خواہشات ابھرنے سے گناہ ہوگا؟

السلام علیکم! جناب مجھے یہ سوال کرتے ہوئے اچھا تو نہیں لگ رہا ہے، لیکن دل نہیں مان رہا ہے، اس لیے یہ پوچھنے پر مجبور ہوں مولانا صاحب اس کا جواب ضرور دیجئے گا، بات یہ ہےکہ میری عمر 25 سال ہے اور میں غیر شادی شدہ ہوں، میرے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ سال یا دو سال میرے نفسانی خواہشات ابھرنے لگتے ہیں، ویسے پورا سال کچھ نہیں ہوتا ہے نفسانی خواہشات ابھرتے ہوئے یا تو پیشاب کے بعد منی خارج ہوتی ہے پاکپڑے پہننے کے دوران خارج ہو جاتی ہے، حالانکہ اس میں میرا کوئی ذاتی عمل شامل نہیں ہوتا ہے اب یہ بتا دیں کہ کیا یہ گناہ میں شامل ہے ؟ اور اس کا حل کیا ہے ؟ مہر بانی فرما کر اس کا جواب دیجیے گا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر اس مادہ کے اخراج میں سائل کا کوئی عمل دخل نہ ہو تو اس کی وجہ سے وہ شرعاً گناہ گار نہ ہو گا، جبکہ سائل کو چاہیے کہ اس سلسلے میں کسی ماہر معالج سے بھی رجوع کرے، اور جلد سے جلد شادی کی فکر کرے ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبد الرزاق عزيز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 9879کی تصدیق کریں
0     205
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات