احکام حج

کیا دوسرے حج میں بھی بال کٹوانا ضروری ہے ؟

فتوی نمبر :
9876
| تاریخ :
2010-09-29
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

کیا دوسرے حج میں بھی بال کٹوانا ضروری ہے ؟

السلام علیکم ! میں اللہ کے فضل سے ایک حج کر چکا ہوں ، اب دوسرے کا ارادہ ہے ،کیا اب بھی پورے بال کٹوانے ہوں گے؟ حلق کروانا ہوگا ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

حج خواہ پہلا ہو یا دوسرا ،افعالِ حج و عمرہ سے فراغت کے بعد احرام سے نکلنے کے لیے پورے سر کے بال کٹوانا یا قینچی وغیرہ سے انگلی کے پورے کے بقدر چھوٹے کروانا دونوں امور جائز ہیں،(اور احرام سے نکلنے کے لیے لازم بھی ہیں)البتہ حلق کروانا افضل ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی صحیح البخاری : عن نافع، أن عبد الله بن عمر قال: «حلق النبي صلى الله عليه وسلم، وطائفة من أصحابه وقصر بعضهم» اھ(1/233)۔
و فی الرد تحت : (قوله والحلق أو التقصير) أي أحدهما، والحلق أفضل للرجل، وفيه أن هذا شرط للخروج من الإحرام والشرط لا يكون إلا فرضا، وأجاب في شرح اللباب بأن وجوبه من حيث إيقاعه في الوقت المشروع، وهو ما بعد الرمي في الحج، وبعد السعي في العمرة اھ (2/468)۔
و فی البحر الرائق : وواجباته أعني التي يلزم بترك واحد منها دم إنشاء الإحرام من الميقات ومد الوقوف بعرفة إلى الغروب والوقوف بالمزدلفة فيما بين طلوع فجر يوم النحر إلى طلوع الشمس والحلق، أو التقصير اھ (2/308)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 9876کی تصدیق کریں
0     468
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات