السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حضرت مفتی صاحب، ایک ذاتی مسئلے میں رہنمائی چاہیے۔
ماضی میں مجھ سے ایک عورت کے ساتھ زنا کا گناہ ہوا۔ بعد میں میں نے اس عورت سے مکمل تعلق ختم کر دیا، نہ وہ میری بیوی ہے نہ میں اس کا شوہر۔ ہم دونوں نے اپنے گناہ سے توبہ کرلی ہے۔ اب میں اس عورت کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔
عندالاحناف جس طرح نکاح کے نتیجے میں ازدواجی تعلق قائم کرنے کی وجہ سے حرمت مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے ،اسی طرح زناء کے ذریعے بھی حرمت مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے ،لہذا سائل کے لئے مذکورہ عورت کے ساتھ زنا کے ارتکاب کے بعد اس کی بیٹی ہمشہ ،ہمیشہ کے لئے اس پر حرام ہوچکی ہے ، اس لئے اب ان دونوں کا نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں ،اور نہ ہی یہ نکاح شرعاً منعقد ہوگا ،اس لئے اس عورت کی کسی بھی بیٹی کے ساتھ نکاح سے اجتناب لازم ہے ۔ جبکہ سائل مذکورہ عورت کے ساتھ ناجائز تعلق قائم کرنے کی وجہ سے سخت گناہ گار ہوا ہے جس پر اسے بصدق دل توبہ و استغفار اور آئندہ کے لئے اس فعل شنیع سے مکمل اجتناب لازم ہے ۔
کما فی الفتا وی الھندیۃ : وتثبت حرمة المصاهرة بالنكاح الصحيح دون الفاسد، كذا في محيط السرخسي. فلو تزوجها نكاحا فاسدًا لاتحرم عليه أمها بمجرد العقد بل بالوطء هكذا في البحر الرائق. وتثبت بالوطء حلالا كان أو عن شبهة أو زنا، كذا في فتاوى قاضي خان. فمن زنى بامرأة حرمت عليه أمها وإن علت وابنتها وإن سفلت، وكذا تحرم المزني بها على آباء الزاني وأجداده وإن علوا وأبنائه وإن سفلوا، كذا في فتح القدير. (ج1،ص،274 القسم الثاني المحرمات بالصهرية ط:دار الفكر)