*السلام علیکم، مجھے اپنے نکاح اور خلع کے بارے میں فتویٰ چاہیے۔*
*تفصیل یہ ہے:*
2014 میں نے ایک لڑکے کو پسند کیا تھا لیکن گھر والے نہیں مانے اور اس لڑکے کی شادی ہو گئی جبکہ میری شادی نہیں ہوئی۔ پھر وقت کے ساتھ ہم دونوں رابطے میں رہے اور شادی کا فیصلہ کیا۔
لیکن 2 وجوہات کی بنا پر گھر والے نہیں مان رہے تھے:
1. آؤٹ آف کاسٹ ہونا
2. لڑکے کی پہلے سے شادی شدہ ہونا
اس وجہ سے ہم نے گھر والوں سے جھوٹ بولا کہ لڑکے کا آگے پیچھے کوئی نہیں ہے اور وہ اکلوتا ہے اور آؤٹ آف کنٹری رہتا ہے۔
*نکاح:*
جھوٹ بول کر 10 لاکھ حق مہر کے عوض گھر میں ہی نکاح ہوا۔ ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ نکاح کو 1 ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا کہ گھر والوں کو پتہ چل گیا کہ یہ وہی لڑکا ہے اور وہ شادی شدہ بھی ہے۔
*ظلم اور دباؤ:*
سب سے پہلے مجھے مارا گیا۔ میرے والد نے میرے سر سے دوپٹہ اتار کر سامنے بٹھا کر کہا کہ "جب تک خلع کے لیے نہیں مانو گی عزت کی حق دار نہیں ہو تم"۔
پھر میں رو کر منت کرتی رہی کہ خلع نہیں کرواؤ، میں اس لڑکے کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔ لڑکے نے بھی کہا تھا کہ "میں طلاق نہیں دوں گا"۔
میں ہر روز منت کرتی رہی کہ مجھے خلع نہیں چاہیے، میں نہیں لینی۔
لیکن وہ کہتے تھے کہ "لڑکے کے گھر کے باہر لوگ کھڑے ہیں، اسے مار دیں گے اور اس کی بہنوں اور بیٹیوں کو اٹھا لیں گے"۔
میں اس خلع کے لیے راضی نہیں تھی۔ سب کچھ مجھ سے زبردستی کروایا گیا۔
*یکتطرفہ خلع کا واقعہ:*
اسی دوران انہوں نے مجھ سے ڈاکومنٹ لے لیے اور حق مہر کی 10 لاکھ رقم بھی موبائل ایپ کے ذریعے میرے والد نے اپنے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر لی۔ وہ رقم مجھے نہیں ملی۔
پھر ڈرا دھمکا کر مجھے عدالت لے گئے اور وہاں اپنی مرضی کا بیان لکھوا کر مجھ سے سائن کروا لیے۔
لڑکے کو خلع کا کوئی نوٹس نہیں بھیجا گیا۔ غلط ایڈریس پر نوٹس بھیجے گئے۔ یہ یکطرفہ خلع تھی۔
عدالت میں جج نے مجھ سے پراپر بیان بھی نہیں لیا۔ صرف میرا نام اور نکاح کی تاریخ پوچھی اور اٹھ کر چلا گیا۔
ٹائپسٹ نے بھی بیان مجھ سے نہیں لکھا بلکہ جو انہوں نے دیا تھا وہی لکھا اور اس کے پیسے بھی لیے۔
عدالت نے خلع کا کہہ دیا کہ "ہو گئی ہے"۔
یونین کونسل کے صلح والے 90 دن کے ٹائم میں بھی مجھے لڑکے سے کانٹیکٹ نہیں کرنے دیا گیا۔
یکتطرفہ ڈگری ہونے کے تقریباً 3 ماہ بعد یونین کونسل نے "طلاق مؤثر سرٹیفکیٹ" جاری کر دیا۔
*لڑکے کا موقف:*
یکتطرفہ ڈگری ہونے کے 2 ہفتے بعد لڑکے کو پتہ چلا۔ وہ اپنے ذرائع سے معلوم کر کے آیا تھا۔ میری فیملی اس کے منع کرنے پر بھی خلع سے نہیں رک رہی تھی۔
لڑکے نے صاف کہا تھا کہ "میں کسی صورت طلاق نہیں دوں گا"۔
*اہم بات:*
آج تک نہ مجھے نکاح نامہ دیا گیا ہے اور نہ ہی خلع کی ڈگری دکھائی گئی ہے۔ مانگنے پر بھی نہیں دیتے۔
اور اب فیملی میری کسی اور سے شادی کروانا چاہ رہی ہے۔
*سوال:*
کیا اس صورت میں خلع واقعی ہو گئی ہے یا نکاح ابھی بھی برقرار ہے؟
برائے مہربانی شرعی اور قانونی رہنمائی فرما دیں۔
جزاک اللہ خیر
واضح ہو کہ اولا تو سائلہ کانکاح سے قبل ایک اجنبی لڑکے کے ساتھ تعلق رکھنا شرعا نا جائز اور عرفا معیوب اور باعث عار عمل تھا جس پر سائلہ کو بصدق دل توبہ و استغفار اور اپنے والدین سے معافی کا اہتمام کرنا چاہیے، جبکہ شادی اور نکاح کیلیے شریک حیات کا انتخاب کرنا اہم امور میں سے ہیں، جن میں پختہ عمر تجربہ کار اور مشفق والدین کی رائے یقینی طور پر اپنی اولاد کے بہتر مستقبل ہی کی خاطر ہوتی ہے، اس میں صرف شریک حیات کے ظاہری حلیہ اور مالداری کو نہیں دیکھا جاتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اسکا اچھے خاندان والا ہونا، اچھے اخلاق و کردار کا مالک ہونا وغیرہ بھی دیکھا جاتا ہے، جسکا حقیقی ادراک لڑکی کے بجائے والدین ذیادہ بہتر اور احسن انداز میں کرسکتے ہیں، لہذا صورت مسئولہ میں اولا تو سائلہ کو چاہیے تھا کہ اپنی مرضی کے بجائے والد کی رائے کا احترام کرتے ہوئے انکی رضامندی کے مطابق اس لڑکے کے علاوہ کہیں اور مناسب جگہ نکاح کرلیتی ۔ سائلہ کا اپنی رائے اور پسند پر بضد ہونا اور اپنے خاندان کو دھوکہ میں ڈال کر اسی لڑکے سے ہی نکاح کرناشریف خاندانوں میں انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے۔چنانچہ سائلہ کا یہ طرز عمل انتہائی نا مناسب تھا، تاہم اگر نکاح باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں ہو ا ہو تو شرعا یہ نکاح منعقد ہوچکا ہے، اب سائلہ نے عدالتی یکطرفہ خلع کا جو طریقہ کار ذکر کیا ہے اگر وہ واقعۃ بھی درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم غلط بیانی سے کام نا لیا گیا ہو اس طور پر کہ نا تو سائلہ نے اپنی رضامندی سے خلع کا دعوی دائر کیا ہو، اور نا ہی سائلہ کا خاوند عدالت میں حاضر ہوا ہو تو چونکہ خلع بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے ، جس کی صحت کے لئے فریقین (لڑکا اور لڑکی )کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب وقبول شرط ہے ، لہذاصورت مسئولہ میں چونکہ باقاعد ہ رضامندی اور ایجاب و قبول نہیں پایا گیا ہے، اس لیے سائلہ کا نکاح حسب سابق اپنے خاوند سے برقرار ہے، ایسی صورتحال میں سائلہ کے والدین کو چاہیے کہ کسی دوسری جگہ شادی کرانے سے قبل یا تو باضابطہ مذکور لڑکے سے خلع اور طلاق کے ذریعہ علیحدگی اختیار کریں، اور اگر اس پر کسی طرح سائلہ راضی نہ ہو تو پھر بزور و زبردستی بیٹی کی رخصتی روکنے کے بجائے فی الفور اسکی اسی لڑکے کے ساتھ رخصتی کی ترتیب بنائیں۔
كما في بدائع الصنائع : و أما ركنه فهو الإيجاب و القبول لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة و لا يستحق العوض بدون القبول الخ ( ج ٣ ص 154، ط : سعید)-
و في رد المحتار : و أما ركنه فهو كما في البدائع : إذا كان بعوض الإيجاب و القبول لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة و لا يستحق العوض بدون القبول الخ ( باب الخلع ، ج ۳، ص 441، ط : سعید)-
و في المبسوط للسرخسي : و الخلع جائز عند " السلطان و غيره، لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود الخ ( باب الخلع ، ج 6 ، ص ۱۷۳، ط : مطبعة السعادة ، مصر)-