میری ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہے۔ میری بیٹی کی شادی ہوئی، لیکن گھریلو مسائل اور سسرال کی ناقابلِ برداشت اذیت کی وجہ سے اس نے عدالت کے ذریعے خلع لے لی۔ اس بات کو اب 5سے 6سال کا عرصہ ہو چکا ہے۔ اب لڑکا نادم ہے اور اپنا شرعی حق استعمال کرتے ہوئے دوبارہ رجوع کرنا چاہتا ہے کہ 'میرے بچوں کی ماں مجھے واپس ملنی چاہئیے'۔ شرعی احکام کی روشنی میں اب کیا کیا جائے؟ دونوں اپنی غلطیوں کی معافی تلافی کرنا چاہتے ہیں اور بچوں کی خاطر دوبارہ اپنی نئی زندگی کی شروعات کے لیے تیار ہیں۔ دونوں نے ابھی تک دوسری شادی بھی نہیں کی ہے۔ کیا ان کا نکاح دوبارہ پڑھایا جائے گا؟ احکامِ شریعت کے مطابق کھل کر رہنمائی فرما دیں تاکہ ہم والدین سکون پا سکیں اور میری بیٹی اپنی اولاد کی خاطر اپنے شوہر کے ساتھ دوبارہ نئی زندگی گزار سکے۔ ظاہر ہے کہ غلطیاں دونوں طرف سے ہوئی ہیں، لیکن میاں بیوی کی بدنامی آخرکار ماں باپ کے حصے میں ہی آتی ہے۔ شکریہ۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کے لیے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے، جو کہ عموماً یکطرفہ عدالتی خلع کی ڈگریوں میں مفقود ہوتا ہے، چنانچہ ایسی ڈگری کے جاری ہو جانے کے باوجود شرعاً نکاح ختم نہیں ہوتا، بلکہ بدستور برقرار رہتا ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی بیٹی نے خلع کا دعویٰ دائر کیا تھا، اور عدالت نے اس کے شوہر کی اجازت و رضامندی کے بغیر اس کے حق میں یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری کر دی تھی، جس پر شوہر یا اس کے وکیل نے زبانی یا تحریری طور پر رضامندی کا اظہار نہ کیا ہو تو سائل کی بیٹی کو یکطرفہ ملنے والی خلع کی اس ڈگری سے اس کے اور اس کے شوہر کے درمیان شرعاً علیحدگی نہیں ہوئی اور نہ ہی اس سے کوئی طلاق واقع ہوئی ہے، بلکہ ان کا نکاح بدستور برقرار ہے اور بلا تجدیدِ نکاح وہ میاں بیوی کی حیثیت سے دوبارہ خانہ آبادی کر سکتے ہیں، تاہم اگر اس صورت میں بھی تجدیدِ نکاح کیا جائے تو اس میں مضائقہ نہیں بلکہ بہتر ہے، لیکن اگر خلع شوہر کی اجازت و رضامندی سے ہوا ہو تو اس سے بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوگی جس کے بعد بھی اگر میاں بیوی دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لیے گواہوں کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ تجدیدِ نکاح لازم ہوگا۔
کما فی شرح مختصر الطحاوي للجصاص :[ليس للحكمين في الشقاق التفريق إلا بالتفويض] قال: (وليس للحكمين في الشقاق أن يفرقا إلا أن يجعل ذلك إليهما الزوجان) قال أحمد: وروي عن علي رضي الله عنه مثل ذلك.اھ( باب مسألة الخلع، ج : ۴،ص: 456-ط : دار البشائر الإسلامية)
و فی فتح القدير للكمال بن الهمام : ولو ادعى النشوز وادعت هي ظلمه وتقصيره في حقها يفعل الحاكم ما يتفقان عليه من الجمع والتفريق، وليس لهما أن يجمعا ولا أن يفرقا بغير أمرهما ۔اھ( باب الخلع،ج :۴ ، ص : ۲۴۴ ، ط : دار الفكر)
و فی المبسوط للسرخسي : و الخلع جائز عند السلطان و غيره ؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، و هو بمنزلة الطلاق بعوض۔(باب الخلع،ج؛6 ص: 173 ، ط؛ دار المعرفة)
و في موسوعة الفقه على المذاهب الأربعة: اتفق فقهاء المسلمين على أن الزوجين إذا وصلا إلى حالة من الشقاق و السباب و النفور و اشتد الخلاف بينهما و أشكل أمرهما و خيف من تعديهما إلى ما حرم الله أنه يبعث حكمان حكم من أهله و حكم من أهلها إن و جدا، فينظران بينهما و يفعلان ما يريان المصلحة فيه لهما من جميع أو تفريق لقوله تعالى: ﴿و إن خفتم شقاق بينهما فابعثوا حكما من أهله و حكما من أهلها إن يريدا إصلاحا يوفق الله بينهما) [النساء: (٣٥).اھ(باب التحكيم عند الشقاق بين الزوجين، ج: ۱۶، ص: ۴۳۶، ط: دار التقوى).
و فی البنایة:وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث، فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها؛ لأن حل المحلية باق؛ لأن زواله متعلق بالطلقة الثالثة، فينعدم قبلها، ومنع الغير في العدة لاشتباه النسب ولا اشتباه في إطلاقه.وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها، ثم يطلقها، أو يموت عنها.اھ(فصل فيما تحل به المطلقة،ج:5،ص:474،ط:دار الکتب العلمیۃ)