مرد کو دوسری شادی کرنے کی اجازت پہلی بیوی سے لینا تو ضروری نہیں؟
واضح ہو کہ جو شخص ایک سے زائد بیویوں کے درمیان ان کے حقوق میں مساوات کرسکتا ہو اور ان کے نان و نفقہ (خوراک، رہائش، لباس، اور ضروری علاج وغیرہ) پوری ذمے داری سے ادا کرسکتا ہو، تو اس کیلئے پہلی بیوی سے اجازت لینا شرعاً لازم نہیں، بلکہ اس کے بغیر بھی دوسری شادی کرسکتا ہے، مگر چونکہ قانوناً پہلی بیوی سے پیشگی اجازت لینا ضروری ہے،لہٰذا پہلی بیوی سے اجازت لے کر دوسری شادی کی جائے تو زیادہ بہتر ہے، تاکہ بعد کی زندگی خوش و خرم گزرے اور گھر کا سکون برباد نہ ہو۔
کما فی قولہ تعالیٰ: فانكحوا ما طاب لكم من النساء مثنى وثلاث ورباع فإن خفتم ألا تعدلوا فواحدة أو ما ملكت أيمانكم ذلك أدنى ألا تعولوا (النساء، رقم الآیۃ:3)۔
وفی الدر المختار: (و) صح (نکاح اربع من الحرائر و الاماء فقط للحر) لا اکثر اھ، (کتاب النکاح، فصل فی المحرمات، ج:3، ص:48، ط:سعید)۔
وفی الھندیۃ: وإذا كانت له امرأة وأراد أن يتزوج عليها أخرى وخاف أن لايعدل بينهما لايسعه ذلك، وإن كان لايخاف وسعه ذلك،والامتناع أولی ویؤجر بترک ادخال الغم علیھا کذا فی السراجیۃ(کتاب النکاح، الباب الحادی عشر في القسم، ج:1، ص:341، ط:رشیدیہ)
وفی بدائع الصنائع: وجملة الكلام فيه أن الرجل لا يخلو إما أن يكون له أكثر من امرأة واحدة وإما إن كانت له امرأة واحدة، فإن كان له أكثر من امرأة، فعليه العدل بينهن في حقوقهن من القسم والنفقةوالكسوة، وهوالتسوية بينهن في ذلك حتى لو كانت تحته امرأتان حرتان أو أمتان يجب عليه أن يعدل بينهما في المأكول والمشروب والملبوس والسكنى والبيتوتة۔الخ(فصل ومنھا وجوب العدل بین النساءالخ، ج:2، ص:332، ط:سعید)