السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بیٹی کی سن 2016 میں محمد نعمان سے شادی ہوئی تھی شادی کے بعد مسلسل شکایت آتی رہی کہ نعمان میری بیٹی سلعہ کو آئے دن گالی گلوچ اور مار پیٹ کرتا ہے روزانہ کی لڑائی اور مار پیٹ سے تنگ آکر ہم نے عدالت سے خلع لی، اس عدالتی فیصلے کو اب تین سال گزر چکے ہیں، اب میں اپنی بیٹی کا نکاح کرنا چاہتی ہوں، اس سلسلے میں میری رہنمائی فرمائیں کہ اب میں اپنی بیٹی کا نکاح کرسکتی ہوں یا نہیں؟
سوال کے ساتھ منسلکہ خلع ڈگری کو بغور پڑھنے سے یہ معلوم ہوا کہ سائل کی بیٹی نے جو خلع کے ذریعہ فسخِ نکاح کا دعوی دائر کیا تھا تو اس بیان دعوی میں اس کی جانب سے جس قدر وجوہات واسباب بیان کیے گئے، ان سب اسباب کی شوہر نے حلفاً تردید کی ہے،بلکہ وہ تو عورت کے ساتھ آئندہ زندگی بسر کرنے پر بھی مصر ہے، اور ایسی صورت میں چونکہ گواہوں کے ذریعہ بارِ دعوی کا ثبوت سائل کی بیٹی یعنی منکوحہ پر تھا ، پر اس کی طرف سے گواہوں کے ذریعہ ثبوت دعوی کا اس منسلکہ ڈگری میں کوئی ذکر نہیں ، اس لیے کوئی سببِ فسخ عدالت میں شرعی اصولوں کے مطابق ثابت نہیں ہوا،لہذا اس فیصلہ کو فسخ نکاح پر محمول کرنا درست نہیں، نیز عدم ِثبوت دعویٰ کے بعد مصالحتی کوشش(پری ٹرائل ) کے موقعہ پر یا کسی دوسرے وقت شوہر یا اس کی جانب سے مقرر کردہ وکیل نے اس فیصلہ پر زبانی یا تحریری طور پر ضامندی بھی ظاہر نہ کی ہوتو خلع کے طور پر بھی یہ فیصلہ غیر معتبر ہوکر ان دونوں کا نکاح ختم نہیں ہوا بلکہ بدستور برقرار ہے، اور اس فیصلہ کی بنیاد پر سائل کی بیٹی کے لئے دوسری جگہ نکاح کرنا بھی درست نہ ہوگا،بلکہ اس سے قبل اس کے لیے شوہر سے خلع یا طلاق بالمال کے ذریعہ علیحدگی حاصل کرنا ضروری ہوگی، تاہم اگر منکوحہ شوہر کے ساتھ گھر بسانے پرآمادہ نہ ہو، تو شوہر کو بھی چاہئے کہ وہ بیوی کو با ضابطہ شرعی طریقے کے مطابق طلاق یا خلع دیکر آزاد کردے تا کہ ہر ایک اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکے ۔
كما في احكام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يمكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والأخروكيل الزوج في الخلع (الى قوله) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخر جا المال من ملكها اھ ( باب الحکمین کیف یعملان، ج :2، ص:191،مط:سھیل اکیڈمی لاھور)
وفي المبسوط لشمس الدين السرخسي : (قال) والخلع جائز عند السلطان وغيره لانه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود وهو منزلة الطلاق الخ ( باب الخلع ،ج: 6ص:173،مط:دار الفکر)
وفی التاتار خانیۃ:الخلع عقد یفتقر الی الایجاب والقبول یثبت الفرقۃ و یستحق علیھا العوض الخ(الفصل السادس العشر فی الخلع،ج:5،ص:5،مط:مکتبہ رشیدیہ)