نکاح

لڑکی کی والدہ کی اجازت سےصرف دو گواہوں کے سامنے ایجاب و قبول کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
97231
| تاریخ :
2026-07-07
معاملات / احکام نکاح / نکاح

لڑکی کی والدہ کی اجازت سےصرف دو گواہوں کے سامنے ایجاب و قبول کرنے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرا سوال یہ ہےکہ ایک بالغ اور عاقل لڑکے اور ایک بالغ اور عاقل لڑکی نے نکاح کرنے کی نیت سے دو بالغ اور عاقل مسلمان مرد گواہوں کی موجودگی میں ایک دوسرے کے سامنے اور ایک ہی مجلس میں ایجاب و قبول کیا. ایجاب و قبول اس طرح ہوا کہ پہلے لڑکے نے لڑکی کے سامنے کھڑے ہو کر تین مرتبہ کہا”میں مبشرہ بنت نصیر احمد یعنی آپ کو چالیس ہزار (40,000) روپے حق مہر کے عوض اپنی بیوی قبول کرتا ہوں“۔اس کے جواب میں لڑکی نے تین مرتبہ کہا” قبول ہے“۔اس کے بعد لڑکی نے لڑکے کے سامنے کھڑے ہو کر تین مرتبہ کہا”میں ارسلان ولد بشیر احمد یعنی آپ کو چالیس ہزار (40,000) روپے حق مہر کے عوض اپنا شوہر قبول کرتی ہوں“۔
اس کے جواب میں لڑکے نے بھی تین مرتبہ کہا:”مجھے بھی قبول ہے“۔اس کے بعد ایک مولوی صاحب نے دعا بھی کروائی۔مزید یہ کہ1. اِس نکاح میں لڑکی کی والدہ کی رضامندی بھی موجود تھی اور ایجاب و قبول انہی کی اجازت سے کیا گیا۔2. لڑکی پہلے کسی کے نکاح میں نہیں تھی۔3. لڑکی عدت میں بھی نہیں تھی۔4. لڑکی رشتے میں لڑکے کے چچا کی بیٹی ہے۔5. دونوں گواہ بالغ، عاقل اور مسلمان مرد تھے اور انہوں نے ایجاب و قبول کے الفاظ خود سنے۔6. اور ایجاب وقبول ایک ہی مجلس میں گواہوں کے سامنے ہوا ۔
ان تمام تفصیلات کی روشنی میں قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کے مطابق رہنمائی فرمائیں اور فتویٰ دیں کہ آیا یہ نکاح شرعاً منعقد ہو گیا ہے یا نہیں؟
جزاکم اللہ خیراً۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں مذکور لڑکے اور لڑکی کا نکاح درست منعقد ہوچکاہے اور دونوں کا ایک دوسرے کے ساتھ میاں بیوی کے حیثیت سے رہنا بھی شرعاً جائز ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما روی الترمذی بسندہ: عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ثلاث جدهن جد وهزلهن جد: النكاح، والطلاق، والرجعة. ( ابواب الطلاق واللعان عن رسول اللہ ﷺ باب ماجاء فی الجد والھزل فی الطلاق، ج:2، ص:476،ط:دارالغرب الاسلامی، رقم الحدیث: 1184)
وفی الھدایۃ: وينعقد نكاح الحرة العاقلة البالغة برضاها وإن لم يعقد عليها ولى بكرا كانت أو ثيبا (کتاب النکاح، باب الاولیاء والاکفاء،ج:1،ص:191،ط:داراحیاء التراث العربی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسین احمد عبدالصمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 97231کی تصدیق کریں
0     15
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات