نکاح

بیٹے کی رخصتی کے مطالبہ کے باوجود والدین کا رخصتی نہ کرنا

فتوی نمبر :
97220
| تاریخ :
2026-07-07
معاملات / احکام نکاح / نکاح

بیٹے کی رخصتی کے مطالبہ کے باوجود والدین کا رخصتی نہ کرنا

السلام علیکم، میں نے 2024 میں نکاح کر کے پاکستان سے ملازمت کے لیے دوسرے ملک چلا گیا تھا۔ میں اب جولائی 2026 میں آیا ہوں اور والدین سے رخصتی کا مطالبہ کیا ہے، جس پر وہ نہیں مان رہے۔ میں نے اپنی اہلیہ سے اس کی رضامندی پوچھی، جس پر وہ رخصتی کے لیے راضی ہے،مہربانی فرما کر میری رہنمائی کر دیں کہ میں اپنے والدین کو کیسے سمجھاؤں کہ میری رخصتی کر دیں، کیونکہ مجھے 30 دن میں واپس جانا ہے۔ میری اہلیہ میرے ساتھ نہیں جا سکتی کیونکہ ویزا کا فیصلہ ابھی نہیں آیا اور اس کی پڑھائی بھی جاری ہے، جس کی وجہ سے والدین روک رہے ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ نکاح کے بعدبلا وجہ رخصتی کرانے میں تاخیر کرنا اگرچہ مناسب نہیں ہے، تاہم رخصتی کےبعد چونکہ میاں بیوی کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہے جس کی وجہ سے انہیں سابقہ معمول کے مطابق اپنی مصروفیات برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوتا، بلکہ بسااوقات اس طرح امور کے متاثر ہونے کی وجہ سے میاں بیوی اور دونوں خاندانوں کے درمیاں غلط فہمیاں بھی پیدا ہوجاتی ہے، جو بعد میں ایک پائیدار رشتہ اور پرسکون زندگی بسر کرنے میں رکاوٹ بنتی ہے، اس لئے اگر سائل کی بیوی اب زیرتعلیم اور ویزہ آنے میں بھی وقت باقی ہو، اسی طرح سائل خود بھی ملازمت کے سلسلے میں باہر ملک میں ہو، تو محض چند دن کی خاطر بیوی کو رخصت کراکر گھر لانا مستقبل کی زندگی میں پیچیدگی کا سبب بن سکتا ہے، اس لئے میاں بیوی کو چاہیئے کہ فقط اپنی خواہش اور جذبات کے بجائے بڑوں کے مشورے اور دیگر امور کو بھی سامنے رکھیں جس میں دونوں کے لئے بہتری ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في مشكاة المصابيح: وعن أبي سعيد وابن عباس قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه فإذا بلغ فليزوجه فإن بلغ ولم يزوجه فأصاب إثما فإنما إثمه على أبيه (باب الولي في النكاح واستئذان المرأة:الفصل الثالث، ج: ٢، ص: ٢٧١، ط: قديمى كتب خانه)
وفي مرقاة المفاتيح: تحت(وإذا بلغ) وفي نسخة صحيحة بالفاء (فليزوجه) وفي معناه التسري (إن بلغ) أي: وهو فقير (ولم يزوجه) أي: الأب وهو قادر (فأصاب) أي: الولد (إثما) أي: من الزنا ومقدماته (فإنما إثمه على أبيه) أي: جزاء الإثم عليه لتقصيره وهو محمول على الزجر والتهديد للمبالغة والتأكيد، قال الطيبي رحمه الله: أي جزاء الإثم عليه حقيقية ودل هنا الحصر على أن لا إثم على الولد مبالغة لأنه لم يتسبب لما يتفادى ولده من أصابه الإثم اھ (باب الولي في النكاح واستئذان المرأة: الفصل الثالث، ج: ٦، ص: ٣٠٠، ط: المكتبة الحقانية)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بھائی محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 97220کی تصدیق کریں
0     20
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات