جناب میرا سوال یہ ہے کہ پیشاب اور رفعِ حاجت کے وقت قطرے نکلنے سے کیا غسل کرنا واجب ہوجاتا ہے؟ کیونکہ مجھے اکثر رفعِ حاجت کے دوران قطرے آتے ہیں، براہِ کرم آپ مجھے اس کا جواب جلد دیجئے گا۔
اگر یہ قطرے منی کے ہوں اور شہوت کے ساتھ نکلتے ہوں تب تو غسل لازم ہوگا، ورنہ کسی کمزوری اور بیماری وغیرہ کی وجہ سے بلاشہوت نکلنے کی بناء پر غسل لازم نہ ہوگا،بلکہ یہ محض ناقضِ وضو ہی ہوں گے۔
کما فی الدر المختار: ومحله إن وجد الشهوة، وهو تقييد قولهم بعدم الغسل بخروجه بعد البول اھ
وفی رد المحتار: (قوله: ومحمله) أي ما في الخانية. قال في البحر: ويدل عليه تعليله في التجنيس بأن في حالة الانتشار وجد الخروج والانفصال جميعا على وجه الدفق والشهوة اهـ: وعبارة المحيط كما في الحلية: رجل بال فخرج من ذكره مني، إن كان منتشرا فعليه الغسل؛ لأن ذلك دلالة خروجه عن شهوة (قوله: تقييد قولهم) أي فيقال إن عدم وجوب الغسل بخروجه بعد البول اتفاقا إذا لم يكن ذكره منتشرا فلو منتشرا وجب؛ لأنه إنزال جديد وجد معه الدفق والشهوة اھ (1 /161)۔