کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام ومفتیانِ عظام درج ذیل مسائل کے بارے میں کہ:
۱۔ اکثر عورتوں کے جو دائی وغیرہ اندر دوائی رکھ دیتی ہے تو اس دوائی رکھنے سے وضو یا غسل میں نقص آتا ہے یا نہیں؟
۲۔ دوائی رکھنے کے بعد دائی وغیرہ نہانے کو مضر بتلاتی ہے، اگر غسل اس دوائی رکھنے سے واجب ہوتا ہو تو پھر کیا کریں؟
۳۔ یہی مسئلہ ڈاکٹر وغیرہ کو چیک کروانے کا ہے، کیا اس کے بعد بھی وضو غسل کرنا پڑےگا؟ جواب دے دیجیے۔
۲،۱: اس دوائی رکھنے سے نہ غسل لازم ہوتا ہے اور نہ وضو پر کوئی اثر پڑتا ہے، البتہ اس کے نکالنے کی صورت میں اگر اس پر تری لگی ہو تو وضو کرنا لازم ہوگا۔
۳۔ اس طرح محض ڈاکٹرنی کے دیکھنے سے بھی وضو و غسل لازم نہیں ہوتا، البتہ فرج میں انگلی وغیرہ داخل کر کے اگر چیک کیا گیا تو اس سے وضو کا اعادہ ہوگا۔
ففی الدر المختار: (و) لا عند (إدخال إصبع ونحوه) كذكر غير آدمي وذكر خنثى وميت وصبي لا يشتهي وما يصنع من نحو خشب (في الدبر أو القبل) على المختار(و) لا عند (إدخال إصبع ونحوه) كذكر غير آدمي وذكر خنثى وميت وصبي لا يشتهي وما يصنع من نحو خشب (في الدبر أو القبل) على المختار (و) لا عند (وطء بهيمة أو ميتة أو صغيرة غير مشتهاة) بأن تصير مفضاة بالوطء وإن غابت الحشفة ولا ينتقض الوضوءاھ(1/ 166)
وفیه أیضاً: (كما) ينقض (لو حشا إحليله بقطنة وابتل الطرف الظاهر) هذا لو القطنة عالية أو محاذية لرأس الإحليل وإن متسفلة عنه لا ينقض وكذا الحكم في الدبر والفرج الداخل (وإن ابتل) الطرف (الداخل لا) ينقض اھ(1/ 149)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله: والفرج الداخل) أما لو احتشت في الفرج الخارج فابتل داخل الحشو انتقض، سواء نفذ البلل إلى خارج الحشو أو لا للتيقن بالخروج من الفرج الداخل وهو المعتبر في الانتقاض لأن الفرج الخارج بمنزلة القلفة، فكما ينتقض بما يخرج من قصبة الذكر إليها وإن لم يخرج منها كذلك بما يخرج من الفرج الداخل إلى الفرج الخارج وإن لم يخرج من الخارج اهـ(1/ 149) واللہ أعلم بالصواب!