کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جو آدمی غسلِ جنابت یا غسلِ مسنون (مثلاً جمعہ و عیدین وغیرہ) کررہا ہو یا تبریداً غسل کررہا ہو تو بدن پر پانی ڈالتے وقت چھینٹے برتن یعنی بالٹی وغیرہ میں جاتے ہیں تو ان کا کیا حکم ہے آیا پاک ہے یا ناپاک؟ از راہِ کرام قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب سے آگاہ فرمائیں۔ شکریہ
غسل کرتے وقت بالٹی میں پاک بدن سے پانی کے چھینٹے پڑنے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا، تاہم حتی الامکان ان چھینٹوں سے بچنے کی بھی کوشش کرنی چاہئے۔
وفی الدر المختار: فان المطلق اکثر من النصف جاز التطہیر بالکل والا لا۔ (ج۱، ص۱۸۲)-
وفی الشامیۃ تحت (قولہ وإلا لا) أی وإن لم یکن المطلق اکثر، بأن أقل أو مساویا لا یجوز۔ (ج۱، ص۱۸۲)-