میرے شوہر دن میں تین چار مرتبہ آتے ہیں ، بار بار غسل کرنے سے میرے سر میں درد رہنے لگا ہے اور پٹھے کھنچ گئے ہیں ، کسی نے کہا کہ سر کا مسح کرلیں اور باقی جسم پر پانی بہالینے سے غسل ہوجائے گا کیا یہ درست ہے؟
سائلہ اور اس کے شوہر کو چاہیئے کہ بقدرِ ضرورت اور ایک دوسرے کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے مباشرت کریں تو جسم میں درد وغیرہ نہیں ہوگا، تاہم اس صورت میں سائلہ کیلئے غسل کے وقت سر پر مسح کرنا جائز نہیں بلکہ اس پر پانی بہانا لازم ہے۔
فی الدر المختار : (و یجب) أی یفرض (غسل) كل ما یمكن من البدن بلا حرج مرة . اهـ (ج۳، ص۱۵۲)۔
و فیه أیضًا : (و كفی بل أصل ضفیرتها) أی شعر المرأة المضفور للحرج أما المنقوض فیفرض غسل كله اتفاقًا و لو لم یبتل أصلها یجب نقضها مطلقًا هو الصحیح ، و لو ضرها غسل رأسها تركته ، و قیل تمسحه و لا تمنع نفسها عن زوجها . اهـ (ج۳، ص۱۵۳)۔
و فی الفتاویٰ الهندیة : إذا كان فی أعضائه شقاق و قد عجز عن غسله سقط عنه فرض الغسل و یلزم إمرار الماء علیه فان عجز عن امرار الماء یكفیه المسح فان عجز عن المسح سقط عنه المسح أیضًا فیغسل ما حوله و یترك ذلك الموضع . اهـ (ج۱، ص۶)۔