نکاح

لڑکی کی مجلسِ نکاح میں موجودگی کے بغیر کیے گئے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
96778
| تاریخ :
2026-06-24
معاملات / احکام نکاح / نکاح

لڑکی کی مجلسِ نکاح میں موجودگی کے بغیر کیے گئے نکاح کا حکم

السلام علیکم و رحمتہ اللہ،
میں ایک شرعی مسئلے کے حل کے لیے آپ کی رہنمائی کی طالب ہوں، براہِ کرم درج ذیل صورتحال کے مطابق فتویٰ عنایت فرمائیں، مورخہ 03 مارچ کو ایک آن لائن قاری صاحب کے ذریعے آڈیو کال پر نکاح پڑھوایا گیا، اس نکاح میں گواہان ہمارے پاس موجود نہیں تھے، بلکہ قاری صاحب نے ہی گواہان کا انتظام کیا تھا (قاری صاحب کے کہنے کے مطابق گواہان موجود تھے)گواہان نے سلام کیا تھا بس اس کے بعد کال پر نکاح ہوا ہم نے آڈیو کال پر ایجاب و قبول کیا۔ کیا اس طرح کا نکاح شرعاً درست ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ خود مجلس نکاح میں موجود و حاضر نہ تھی بلکہ آڈیو کال پر تھی اور اس نے مجلسِ نکاح کے اندر موجود کسی کو وکیل بھی نہ بنایا ہو تو ایسی صورت میں سائلہ کا نکاح شرعا ًمنعقد نہیں ہوا ۔ تاہم سوال کی نوعیت مختلف ہو تو اس کی مکمل تفصیل لکھ کر سوال دوبارہ بھیج دیں اس پر غور و فکر کے بعد حکم ِشرعی سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیہ :(ومنها) أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس بأن كانا حاضرين فأوجب أحدهما فقام الآخر عن المجلس قبل القبول أو اشتغل بعمل يوجب اختلاف المجلس لا ينعقد، وكذا إذا كان أحدهما غائباً لم ينعقد حتى لو قالت امرأة بحضرة شاهدين: زوجت نفسي من فلان وهو غائب فبلغه الخبر فقال: قبلت، أو قال رجل بحضرة شاهدين: تزوجت فلانةً وهي غائبة فبلغها الخبر فقالت: زوجت نفسي منه لم يجز وإن كان القبول بحضرة ذينك الشاهدين وهذا قول أبي حنيفة ومحمد -رحمهما الله تعالى - ولو أرسل إليها رسولاً أو كتب إليها بذلك كتاباً فقبلت بحضرة شاهدين سمعا كلام الرسول وقراءة الكتاب؛ جاز لاتحاد المجلس من حيث المعنى. (کتاب النکاح الباب الاول ج:1 ص:269 ط: دار الفکر۔بیروت)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 96778کی تصدیق کریں
0     18
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات