نکاح

حاملہ بیوی کو دی ہوئی طلاق کا حکم

فتوی نمبر :
96410
| تاریخ :
2026-06-14
معاملات / احکام نکاح / نکاح

حاملہ بیوی کو دی ہوئی طلاق کا حکم

کیافرماتےہیں علماء کرام ومفتیان اس مسئلہ کے بارے میں کہ میںمیرے شوہرنےفون پرویڈیوکال میں ان الفاظ کے ساتھ "تم مجھ پرطلاق ہو"تین بارطلاق دی ہے ،اب اس کاکہناہے کہ میرے گھروالوں نےزبردستی کہاتھاکہ اپنی بیوی کوطلاق دو ،میں نے ان کے دباؤمیں آکریہ الفاظ کہے تھے۔جس وقت اس نے یہ الفاظ کہے میں حاملہ بھی تھی ۔
اب آپ سے یہ پوچھناہےکیااس حالت میں ان الفاظ کے ساتھ طلاق ہوجاتی ہے یانہیں ؟اورکتنی طلاقیں ہوتی ہیں ؟کیاہم رجوع
کرسکتے ہیں یانہیں ؟جوبھی حکم شرع ہوآگاہ فرمائیں ۔
نوٹ: سائلہ نے دارالافتاء میں ویڈیوبطورثبوت پیش کی تھی ،جس میں ایک شخص بظاہراطمینان اورسکون کی حالت میں الفاظ طلاق اداکررہاہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ حمل کی حالت میں طلاق دینا اگرچہ شرعاً ناپسندیدہ طریقہ ہے ، تاہم اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب سائلہ کے شوہر نے ویڈیو کال کے زریعہ سائلہ سے مذکور الفاظ " تم مجھ پر طلاق ہو،تین مرتبہ کہہ دیے (اگرچہ گھر والوں کی دباؤ میں آکر کہہ دیے ہوں)تواس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گزقائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے، جبکہ عدت کے بعد سائلہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحد گی اور عدتِ طلاق گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان سے نکاح کرے اور حقوقِ زوجیت ادا کرے، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سےایک مرتبہ ہمبستری(جو کہ حلالۂ شرعیہ کےتحقق کے لئے ضروری ہے)کےفوراً بعد یا پھر ازدواجی زندگی کےکچھ عرصہ بعد طلاق دیدے، یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہوجائے،بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہرکے نکاح میں آ نا چاہے، اور پہلا شوہر بھی اس کو رکھنے پر رضامند ہو،تونئے مہرکے ساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسرکر سکتے ہیں،تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ِثانی بیوی کو نکاح کےبعد طلاق دےگا،تا کہ وہ زوجِِ اول کے لئے حلال ہو جائے , مکروہ ہے،جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،البتہ بغیرکسی شرط کےا س کےساتھ نکاح کرنابلاشبہ جائز اور درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی التنزیل العزیز:الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ( سورۃ البقرہ الآیہ 229 )
قال للہ تعالی: فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ ( سورۃ البقرہ الآیہ: 230 )
وفی الہندیۃ: وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة وكذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق كذا في السراج الوهاج،اھ(الباب الثانی فی ایقاع الطلاق،ج:1 ص: 355 ناشر: ماجیدیہ)
وکما فی البنا یۃ :وطلاق الحامل يجوز عقيب الجماع، لأنه لا يؤدي إلى اشتباه وجه العدة، وزمان الحبل زمان الرغبة في الوطء لكونه) ش: أي لكون الوطء م: (غير معلق) ش: أي غير محبل م: (أو يرغب فيها) ش: عطف على قوله في الوطء، والضمير يرجع إلى الحامل يعني أن زمان الحبل زمن الرغبة في الوطء، لأنه في حالة الحبل غير معلق، وهو زمان الرغبة في الحامل م: (لمكان ولده منها) ش: أي لأجل حصول ولده من الحامل م: (فلا تقل الرغبة بالجماع) ش: لأن الولد داع إلى رغبة الرجل في أمه، ولما كان زمان الرغبة لا يقع طلاقها عقيب الجماع.اھ ( ج:5 طلاق الحامل عقیب الجماع ص : 291 ناشر :بیروت)
وفی المبسوط للسرخسی : {وأولات ‌الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن} [الطلاق: 4] يوجب عليها العدة بوضع الحملا، الخ (باب العدۃ ج: 6 ص : 31 ناشر : المطبعۃ السعادۃ )
وفی الھندیۃ:إن کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ وثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحاصحیحا ، الخ(ج: 1 ص : 473 فصل فيما تحل به المطلقة ناشر ؛ المطبعۃ الکبری لأمیریہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد زکریا الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 96410کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات