کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ مذکورہ کے متعلق مسمیٰ ناصر (جوکہ اقبال حسین اور ان کی اہلیہ شمینہ اقبال حسین کا بیٹا ہے ) نے نیک زادہ کی اہلیہ اسلامہ کا مدت رضاعت میں دودھ پیا ہے ، یعنی ناصر اسلامہ کا رضاعی بیٹا بن گیا ہے ، اسی طرح نیک زادہ اور اسلامہ کی بیٹی (نازیہ ) نے ثمینہ اقبال حسین (جوکہ اقبال حسین کی اہلیہ ہے ) کا مدت رضاعت میں دودھ پیا ہے یعنی نازیہ ثمینہ کی رضاعی بیٹی بن گئی ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا نیک زادہ کے بیٹے سہیل کا نکاح اقبال حسین کی چھوٹی بیٹی عائشہ سے جائز ہوسکتا ہے ؟ یا رضاعت کی وجہ سے یہ نکاح حرام ہوگا ۔ براہ کرم رہنمائی فرمائیں ۔
صورتِ مسئولہ میں مسمیٰ ناصر کا مدت رضاعت میں نیک زادہ کی اہلیہ کا دودھ پینے اور مسماۃ نازیہ کا اقبال حسین کی اہلیہ کا دودھ پینے کی وجہ سے ان کے درمیان حرمت رضاعت کا تعلق قائم ہوچکاہے اور ان پر تو رضاعت کے احکام بھی جاری ہوں گے۔ تاہم ان کی اس رضاعت کی وجہ سے ان کے دیگر بہن بھائیوں سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی اس کی وجہ سے کوئی حرمت ثابت ہوتی ہے لہٰذا اگر ان دونوں کے درمیان حرمت نکاح کی کوئی اور وجہ موجود نہ ہو تو نیک زادہ کے بیٹے مسمیٰ سہیل کا اقبال حسین کی بیٹی مسماۃ عائشہ کے ساتھ نکاح شرعاً جائز اور درست ہے ۔
کما فی الدر المختار للحصفكي:(فيحرم منه) أي بسببه (ما يحرم من النسب) رواه الشيخان، واستثنى بعضهم إحدى وعشرين صورة (ج3 ص:213 باب الرضاع ط:دار الفكر-بيروت)
وفیہ ایضاً: (وتحل أخت أخيه رضاعا) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعا أخت نسبا وبهما وهو ظاهر (ج3 ص:217 باب الرضاع ط:دار الفكر-بيروت)