کیا فرماتے ہیں مفتیاں کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے ایک آدمی سے قرآن پرہاتھ رکھ کر نکاح کیا تھا ،جس میں صرف ایک آدمی گواہ تھا، اس طرح کیا ہو ا نکاح شرعاً منعقد ہو تا ہےیا نہیں ؟
واضح ہو کہ نکاح کے شرعاً درست منعقد ہونے کے لیے مجلس نکاح میں شرعی گواہان کا موجود ہو نا اوران کا ایجاب وقبول کے الفاظ کو سننا شرعاً لازم اور ضروری ہے ۔ ان شرائط کے بغیر نکاح شرعاً درست منعقد نہیں ہوتا، اوراس طرح کے نکاح فاسد کے بعد میان بیوی کی طرح ملنا اور ساتھ رہنا بھی جائز نہیں ، بلکہ جانبین پر ایسے نکاح کو ختم اور فسخ کرنا لازم ہے ۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں قرآنِ مجید پر ہاتھ رکھ کر صرف ایک گواہ کی موجودگی میں نکاح کرنے سے شرعاً نکاح درست منعقد نہیں ہوا، چنانچہ سائلہ پر لازم ہے کہ مذکور شخص سے دوری اختیا ر کرے اور فریقین اس فاسد نکاح کو ختم کر کے ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں۔
وفی بدائع الصنائع : وأما بيان وقت هذه الشهادة - وهي حضور الشهود - فوقتها وقت وجود ركن العقد - وهو الإيجاب والقبول -الخ،( فصل ان تکون المرأۃ محللۃ ، ج: 2ص: 256 ناشر : سعید )
وكما في البناية: قال: ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين، أو رجل وامرأتين عدولا كانوا أو غير عدول أو محدودين في القذف. قال _ رضي الله عنه _: اعلم أن الشهادة شرط في باب النكاح لقوله عليه السلام: «لا نكاح إلا بشهود»اھ، (الشہادۃ فی النکاح ،ج:5 ص: 12، ناشر :بیروت)
وفیہ ایضاً : قال: النكاح ينعقد بالإيجاب والقبول بلفظين يعبر بهما عن الماضي؛الخ (الشہادۃ فی النکاح ،ج:5 ص: 6 ، ناشر :بیروت)