میرا مسئلہ نکاح سے متعلق ہے۔میں نے ایک شخص کے ساتھ اللہ اور رسول ﷺ کو گواہ بنا کر بغیر کسی انسانی گواہ کے ایجاب و قبول کہا تھا۔اب وہ شخص بیرون ملک ہے ۔میرے والدین اس رشتے کے خلاف ہیں اور کسی اور جگہ شادی طے کر رہے ہیں۔برائے مہربانی درج ذیل سوالات کے جوابات عنایت فرمائیں:
1) کیا یہ نکاح شرعاً درست تھا؟ میں اس شخص کی بیوی ہوں؟
2) کیا والدین کی مرضی کے بغیر کسی دیندار اور کفو مرد سے نکاح کر سکتی ہوں؟
3) مجھے اب کیا کرنا چاہیے؟
میری درخواست ہے کہ میری شناخت صیغۂ راز میں رکھی جائے۔جزاکم اللہ خیرا!
واضح ہو کہ نکاح کی صحت و انعقاد کے لیے مجلسِ نکاح میں دو عاقل، بالغ، مسلمان مرد، یا ایک عاقل، بالغ مسلمان مرد اور دو عاقل، بالغ مسلمان عورتوں کا بطورِ گواہ موجود ہونا شرعاً ضروری ہے۔ لہٰذا سائلہ کا مذکورشخص کے ساتھ انسانی گواہوں کی عدم موجودگی میں صرف اللہ تعالیٰ، رسول اللہ ﷺ کو گواہ بنا کر ایجاب و قبول کرلینے سےمذکور نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوا، چنانچہ سائلہ اورمذکور شخص دونوں ایک دوسرے کے لیے بدستور اجنبی اور نامحرم ہیں، لہٰذادونوں کو میاں بیوی کی طرح میل جول ،بے تکلفی اورتعلقات رکھنا جائز نہیں۔ تاہم چونکہ سائلہ اوراس شخص کے درمیان نکاح کی غرض سے ایجاب و قبول پایاگیاتھا،جوفقہاء کرام کی تصریحات کے مطابق نکاح فاسد کے زمرے میں آتاہے، جس کوختم کرنے کے لیے متارکت ضروری ہے ۔چنانچہ اس نکاح کے بعداگرسائلہ اوراس لڑکےکے درمیان کوئی جسمانی تعلق قائم نہ ہواہو،توایک قول کے مطابق اس نکاح کوختم کرنے کے لیے لڑکا،لڑکی کاعملاًایک دوسرے کوچھوڑدیناکافی ہوتاہے لیکن راجح قول کےمطابق ایجاب وقبول کے بعدجسمانی تعلق قائم ہواہویانہ ہواہو،دونوں صورتوں میں لڑکےکوچاہیے کہ وہ سائلہ کوالفاظ متارکت یعنی "میں نے تمہیں چھوڑ دیا،یامیں نے تم سے علیحدگی اختیارکرلی " وغیرہ کے الفاظ اداکردے یا سائلہ اپنی جانب سے الفاظ فسخ مثلا ً " میں اس نکاح کو فسخ کرتی ہوں " کہہ کر اس نکاح کو فسخ کردے ، تاکہ وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزادہوسکے،اورازدواجی تعلق قائم ہونے کی صورت میں سائلہ کے لیےتین ماہواریاں عدت گزارنابھی لازم ہوگا۔جس کے بعد سائلہ اگر کسی دیندار اوراپنے ہم کفوء شخص سے نکاح کرنا چاہتی ہو توبہتریہی ہےکہ والدین کو اعتماد میں لے کر ان کی رضامندی شرعی طریقے کے مطابق گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ نکاح کیا جائے، تاکہ مستقبل میں کسی قسم کے نزاع اور خاندانی اختلافات سے بچا جا سکے۔
کمافی الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» : (ويجب مهر المثل في نكاح فاسد) وهو الذي فقد شرطا من شرائط الصحة كشهود(بالوطئ) في القبل (لا بغيره) كالخلوة لحرمة وطئها (ولم يزد) مهر المثل (على المسمى) لرضاها بالحط، ولو كان دون المسمى لزم مهر المثل لفساد التسمية بفساد العقد، ولو لم يسم أو جهل لزم بالغا ما بلغ (و) يثبت (لكل واحد منهما فسخه ولو بغير محضر عن صاحبه، ودخل بها أو لا) في الاصح خروجا عن المعصية فلا ينافي وجوبه،بل يجب على القاضي التفريق بينهما (وتجب العدة بعد الوطئ) لا الخلوة للطلاق لا للموت (من وقت التفريق) أو متاركة الزوج وإن لم تعلم المرأة بالمتاركة في الاصح(ص191)
وفي «المبسوط» للسرخسي : (قال): وإن طلقها الزوج في النكاح بغير شهود لم يقع طلاقه عليها، ولكنه متاركة للنكاح؛ لأن وقوع الطلاق يستدعي ملكا له على المحل، إما ملك العين أو ملك اليد، وذلك لا يحصل بالنكاح الفاسد فإن العدة، وإن وجبت بالدخول لا يثبت ملك اليد باعتباره، ولهذا لا تستوجب النفقة، ولكنه يكون متاركة فإن الطلاق في النكاح الصحيح يكون رافعا للعقد موجبا نقصان العدد لكن امتنع ثبوت أحد الحكمين هنا فبقي عاملا في الآخر، وهو رفع الشبهة؛ لأن رفع الشبهة دون رفع العقد ثم بين حكم الدخول في النكاح الفاسد، وما لو تزوجها في العدة ثانية بشهود ثم طلقها قبل الدخول اھ (5/ 36 ط دارالمعرفه بيروت)
وفي النهر الفائق شرح كنز الدقائق: قال في (القنية): وهو الصحيح وإياك أن تظن أن ما في (الشرح) يفيد أن المتاركة/ تكون منها أيضاً لأنه قدم أولاً تخصيص المتاركة بالزوج فالمراد كما قال غيره إن علم المرأة ليس بشرط ويؤيده قوله كما في الصحيح لكن قالوا: لكل منهما فسخه بغير محضر من الآخر وقيل: بعد الدخول لابد من حضوره وهذا يقتضي صحة الفسخ منها بمحاضره إجماعاً اھ (2/ 255دارالكتب العلمية)