نکاح

تین بار طلاق دیتا ہوں بولنے کا حکم

فتوی نمبر :
95941
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / احکام نکاح / نکاح

تین بار طلاق دیتا ہوں بولنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنی بیوی کو مذکور الفاظ" میں اپنے حوش و حواس میں مریم سعید کو طلاق دیتا ہو ں ، میں مریم سعید کو طلاق دیتاہوں ، میں مریم سعید کو طلاق دیتا ہو ں " کے ساتھ طلاق دی ہے ، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں ؟ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں جب سائل نے اپنی بیوی کو مذکور الفاظ " میں اپنے ہوش و حواس میں مریم سعید کو طلاق دیتا ہو ں ، تین مرتبہ کہہ دیئے تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور نہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح ہوسکتا ہے اس لئے دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ، جبکہ عورت ایام عدت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تبارک وتعالیٰ : {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ}." (البقرة: 230)
وفی الفتاوی الھندیۃ: "وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير."(کتاب الطلاق،الباب السادس فی الرجعۃ و فیما تحل بہ المطلقۃ وما یتصل بہ، فصل فیما تحل بہ المطلقہ ومایتصل بہ، ج:1،ص:473:ط:رشیدیہ)
وفی بدائع الصنائع: "وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠]". (کتاب الطلاق ،فصل :حکم الطلاق البائن،ج:3،ص:187، ط:سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد قاسم حسین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95941کی تصدیق کریں
0     55
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات