نکاح

نکاح سے پہلے لڑکی کو چھونے اور اس سے ملنے کا حکم

فتوی نمبر :
95607
| تاریخ :
2026-05-23
معاملات / احکام نکاح / نکاح

نکاح سے پہلے لڑکی کو چھونے اور اس سے ملنے کا حکم

کیا نکاح سے پہلے لڑکی کو ہاتھ لگانا یا ملنا جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

نکاح سے قبل اگر چہ لڑکا ولڑکی کے مابین منگنی ہوجائے ، تب بھی وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے بدستور اجنبی اور نامحرم رہتے ہیں ، اس لیے نکاح سے پہلے لڑکی کو چھونا یا اس سے میل جول اور بے تکلفی اختیار کرنا شرعا ناجائز و حرام ہے ، جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الفتاوی الھندیة: ولا يحل له أن يمس وجهها، ولا كفها، وإن كان يأمن الشهوة وهذا إذا كانت شابة تشتهى، فإن كانت لا تشتهى لا بأس بمصافحتها ومس يدها، كذا في الذخيرة اھ ( الباب الثامن فيما يحل للرجل النظر إليه وما لا يحل له ج:5 ص: 327 ناشر: المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کامران صادق عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95607کی تصدیق کریں
0     30
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات