میری عمر 32 سال ہے۔ جب بھی میں انڈر ویئر پہنتا ہوں تو شہوت ابھرنے لگتی ہے اور رطوبت (قطرے) نکل جاتے ہیں، اور کئی مرتبہ منی بھی نکل جاتی ہے، حالانکہ میں نے اپنے عضوِ تناسل کو ہاتھ نہیں لگایا ہوتا۔ اس طرح خود بخود انزال ہو جاتا ہے۔ کیا یہ گناہ ہے؟ اور اس کا کیا حل ہے؟"
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کو کسی اختیاری سبب، مثلاً شہوت انگیز خیالات، فحش مواد یا جسمانی تحریک کے بغیر محض انڈر وئیر پہننے سے شہوت محسوس ہونے لگتی ہو اور اس کے نتیجہ میں رطوبت یا منی خارج ہوجاتی ہو، تو ایسی صورت میں سائل گناہ گار نہیں ہوگا لیکن اگر یہ کیفیت تنگ انڈر وئیر یا کسی اور سبب کی وجہ سے پیدا ہوتی ہو تو سائل کو چاہئے کہ حتی الامکان اس سے بچنے کی کوشش کرے ۔جبکہ خارج ہونے والا مادہ اگر منی ہو اور وہ شہوت سے نکلے تو نجاست کو دھونے کے ساتھ غسل بھی واجب ہوگا، اور اگر خارج ہونے والا مادہ مذی ہو یا منی ہو لیکن بغیر شہوت و دفق کے نکلا ہو تو اس صورت میں اگرچہ غسل واجب نہ ہوگا لیکن وضو ٹوٹ جائے گا اور نجاست کو دھونا لازم ہوگا ۔
کما فی مراقي الفلاح شرح متن نور الإيضاح:"مذي" بفتح الميم وسكون الدال المعجمة وكسرها وهو ماء أبيض رقيق يخرج عند شهوة لا بشهوة ولا دفق ولا يعقبه فتور وربما لا يحس بخروجه وهو أغلب في النساء من الرجال ويسمى في جانب النساء قذى بفتح القاف والدال المعجمة "و" منها "ودي" بإسكان الدال المهملة وتخفيف الياء وهو ماء أبيض كدر ثخين لا رائحة له يعقب البول وقد يسبقه أجمع العلماء على أنه لا يجب الغسل بخروج المذي والودي (ج1 ص:44 "فصل: عشرة أشياء لا يغتسل منها " ط:المكتبة العصرية)
وفی الدر المختار: (لا) عند (مذي أو ودي) بل الوضوء منه ومن البول جميعا على الظاهر (ج1 ص: 165 باب سنن الغسل ط: دار الفكر-بيروت)