السلام علیکم مفتی صاحب،میں آپ سے ایک نکاح کے مسئلے کے حوالے سے رہنمائی لینا چاہتا ہوں، اس لیے تھوڑا تفصیل سے بیان کر رہا ہوں تاکہ آپ صحیح رہنمائی فرما سکیں۔ ایک لڑکی ہے جس کے والدین نے اس کی شادی ایک لڑکے سے طے کر دی ہے، لیکن وہ لڑکی اس لڑکے کو بالکل پسند نہیں کرتی اور اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔
لڑکی: اس لڑکے کو خود بھی واضح طور پر انکار کر چکی ہے اور اپنے والدین کو بھی صاف صاف بتا چکی ہے کہ وہ یہ شادی نہیں کرنا چاہتی لیکن اس کے باوجود والدین اس پر دباؤ ڈال رہے ہیں اور زبردستی شادی کروانا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف: وہ لڑکی کسی اور لڑکے کو پسند کرتی ہے۔ اس نے یہ بات اپنے گھر والوں کو بتائی بھی تھی، لیکن انہوں نے غصہ کیا اور اس رشتے کو ماننے سے انکار کر دیا۔
اب صورتحال یہ ہے کہ:وہ لڑکا اور لڑکی آپس میں ملتے بھی رہتے ہیں، اور وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ اگر وہ خفیہ طور پر نکاح کر لیں اور بعد میں گھر والوں کو راضی کرنے کی کوشش کریں، تو شاید مسئلہ حل ہو جائے۔اس حوالے سے میرے چند سوالات ہیں:
1. کیا اسلام میں ایسی شادی درست ہے جو زبردستی کروائی جائے جبکہ لڑکی راضی نہ ہو؟
2. اگر لڑکی بالغ ہے، تو کیا وہ اپنی مرضی سے نکاح کر سکتی ہے بغیر والدین کی اجازت کے؟
3. خفیہ نکاح کرنا — کیا یہ شرعاً جائز ہے اگر نکاح کے بنیادی تقاضے پورے کیے جائیں؟
4. اس صورت میں ولی (والد یا سرپرست) کی اجازت یا موجودگی کتنی ضروری ہے؟
5. اگر والدین بغیر کسی شرعی وجہ کے رشتہ رد کر دیں، تو پھر شریعت کیا رہنمائی دیتی ہے؟
اور خاص طور پر میرا ایک اہم سوال یہ ہے:اگر اس صورت میں پہلے سے گواہ موجود نہ ہوں، تو کیا لڑکا اور لڑکی مسجد میں جا کر وہاں موجود لوگوں میں سے کسی کو موقع پر گواہ بنا کر نکاح کر سکتے ہیں؟
یعنی کیا ایسے اچانک بنائے گئے گواہوں کے ساتھ نکاح درست ہوگا؟ آخر میں: آپ اس پوری صورتحال میں کیا بہتر اور محفوظ راستہ تجویز کریں گے تاکہ: کوئی گناہ بھی نہ ہو اور نکاح بھی صحیح طریقے سے ہو اور بعد میں فیملی کے مسائل بھی کم سے کم ہوںجزاک اللہ خیر۔
واضح ہو کہ نکاح لڑکا لڑکی کے درمیان طے پانے والا ایک ایسا عقد ہے جس میں میاں بیوی حدود اللہ کی پاسداری کرتے ہوئے زندگی بھر ایک دوسرے کا ساتھ دینے اور اس رشتہ کو بنانے کا عہد کرتے ہیں، جس کے لئے میاں بیوی کے درمیان ذہنی ہم آہنگی اور ایک دوسرے کا احترام از حد ضروری ہے، اس کے بغیر یہ رشتہ پائیدار نہیں ہوتا، لہذا اولا تو والدین کےلئے جائز ہی نہیں کہ وہ عاقلہ بالغہ لڑکی کی منشاء اور رضامندی کو نظر انداز کرکے اپنی مرضی کی جگہ نکاح کرنے پر مجبور کریں، بلکہ اس رشتہ میں جوڑنے کےلئے لڑکی کی منشاء اور رضامندی کا پورا خیال رکھنا ضروری ہے۔تاہم اگر کہیں پر والدین کو لڑکی کے انتخاب پر اعتراض ہو اور وہ رشتہ لڑکی کے مستقبل کےلئے موزون نہ سمجھتے ہوں، تو وہ اپنے فرض منصبی کا لحاظ رکھتے ہوئے اس جگہ رشتہ سے انکار کر سکتے ہیں،لیکن دوسری جگہ رشتہ کرنےکےلئے انہیں لڑکی کو اعتماد میں لیکر کوئی اقدام کرنا چاہیے، ۔اسی طرح لڑکی کا والدین کی اجازت اور رضامندی کے بغیر خفیہ نکاح کرنا شرعا واخلاقا ہر اعتبار سے غلط اور نامناسب طرز عمل ہے، جسے شریف اور مہذب خاندانوں میں انتہائی درجہ معیوب سمجھا جاتاہے،نیز والدین کی اجازت اور مرضی کے بغیر کیاہوا نکاح عموما بعد کے مسائل کی وجہ سے پائیدار نہیں ہوتا بلکہ علیحدگی پر منتج ہوتاہے۔ اور اگر یہ نکاح غیر کفوء میں ہوتو شرعا سرے سے منعقد ہی نہ ہوگا۔اس لئے دونوں کو چاہیے کہ اس طرح کے امور میں ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرتے ہوئے باہمی مشورہ سے اسے طے کریں تاکہ بعد کی پریشانیوں سے حفاظت ہوسکے۔
کما فی الھندیة: لا يجوز نكاح أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته؛ جاز، وإن ردته بطل، كذا في السراج الوهاج اھ(كتاب النكاح،الباب الرابع في الأولياء في النكاح،ج: 1،ص: 287،مط: دار الفکر)
و فیہا ایضاً: (ومنها) رضا المرأة إذا كانت بالغة بكرا كانت أو ثيبا فلا يملك الولي إجبارها على النكاح عندنا، كذا في فتاوى قاضي خان اھ(كتاب النكاح،الباب الأول في تفسير النكاح،ج: 1،ص: 269،مط: دار الفکر)
و فی الدر: (ولا تجبر البالغة البكر على النكاح) لانقطاع الولاية بالبلوغ اھ(كتاب النكاح،باب الولي،ج: 3،ص: 57،مط: دار الفکر)
و فی البدائع: الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلاً بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول، سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر، غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض،اھ(کتاب النکاح،فصل ولاية الندب والاستحباب في النكاح،ج: 2،ص: 247،مط: دار الکتب العلمیه)
و فی تبیین الحقائق: (ولا تجبر بكر بالغة على النكاح) يريد به أنه لا يزوجها بغير رضاها فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها عندنا وإن ردته بطل وإن سكتت عند استئذان وليها لها فهو إذن منها اهـ.(كتاب النكاح،باب الأولياء والأكفاء،ج: 2،ص: 117،مط: دار الکتاب الاسلامی)