انگلش سوال کا اردو ترجمہ:
ایک رشتہ دار لڑکی جس کی عمر 16 سال ہے، اس کا نکاح اس کے سب سے بڑے بھائی کی ولایت میں ہوا۔ اس کے والد کا گزشتہ 4 سال سے خاندان سے کوئی رابطہ نہیں ہے، اور نہ ہی انہوں نے کوئی جسمانی، جذباتی یا مالی تعاون فراہم کیا ہے۔ والد مزید یہ کہ فاسق ہیں، فرائض کی ادائیگی میں غفلت کرتے ہیں اور مشکوک کردار کے حامل ہیں۔ اس وجہ سے اس کا بھائی ہی اس کا بنیادی سرپرست اور کفیل ہے، لہٰذا اس نے اپنی بہن کے ولی کا کردار ادا کرتے ہوئے اس کی رضامندی سے اس کا نکاح کر دیا۔ والد کو نکاح کے بارے میں مشورہ نہیں دیا گیا، کیونکہ وہ خاندان سے دور اور لاتعلق تھے۔
ہم اس بارے میں فتویٰ چاہتے ہیں کہ آیا یہ نکاح شرعاً جائز اور درست ہے یا نہیں؟
سوال ميں درج كرده بيان اگر واقعةّ درست اور مبني بر حقيقت ہےتو صورتِ مسئولہ میں بھائی کا بہن کی رضامندی سے اس کا نکاح کرانا شرعاً جائز اور درست ہے ۔
وفي الدر المختار مع رد المحتار: باب الولي (هو) .... (البالغ العاقل الوارث) ولو فاسقا على المذهب ما لم يكن متهتكا.
قوله ما لم يكن متهتكا) في القاموس: رجل منهتك ومتهتك ومستهتك لا يبالي أن يتهتك ستره اهـ قال في الفتح عقب ما نقلنا عنه آنفا، نعم إذا كان متهتكا لا ينفذ تزويجه إياها بنقص عن مهر المثل ومن غير كفء وسيأتي هذا. اهـ. وحاصله أن الفسق وإن كان لا يسلب الأهلية عندنا، لكن إذا كان الأب متهتكا لا ينفذ تزويجه إلا بشرط المصلحة، ومثله ما سيأتي من قول المصنف ولزم ولو بغبن فاحش أو بغير كفء، إن كان الولي أبا أو جدا لم يعرف منهما سوء الاختيار وإن عرف لا اهـ. وبه ظهر أن الفاسق المتهتك وهو بمعنى سيئ الاختيار لا تسقط ولايته مطلقا؛ لأنه لو زوج من كفء بمهر المثل صح كما سيأتي بيانه، وهذا خلاف ما مر عن البزازية، ولا يمكن التوفيق بحمل ما مر على هذا لأن قوله فللقاضي أن يزوج من الكفء يقتضي سقوط ولاية الأب أصلا فافهم. [كتاب النكاح، باب الولي (3/ 54) ط: دار الفكر]