میرا سوال یہ ہے کہ میں پسند کی شادی کرنا چاہتا ہوں۔ میرے گھر والے نہیں مان رہے ہیں ۔اور لڑکی بھی مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہے ۔ہم دونوں راضی ہیں۔ لڑکی کا رشتہ طے کیا گیا ہے، لڑکی ہر لحاظ سے انکار کر چکی ہے، لیکن اس کے گھر والوں کا کہناہے کہ شادی ہم ادھر ہی کریں گے، خواہ دوسرے دن ہی تمھیں وہ طلاق دہ دے، لڑکی ادھر شادی نہیں کرنا چاہتی، کیونکہ وہ لڑکانشئی ہے، نشہ کرتاوغیرہ وغیرہ۔ کیا اس صورت میں ہم گھر والوں سے چھپ کر نکاح کرسکتے ہیں ماں باپ کی مرضی کے بغیر ؟ رہنمائی کردیں۔ شکریہ
واضح ہو کہ والدین کا اولاد کی مرضی اور ان کی پسند کے بغیر کسی دوسری جگہ رشتہ طے کرنا اور اولاد کو اس پر مجبور کرنا درست طرز عمل نہیں، بلکہ اس معاملہ میں اولاد کی رضامندی اور پسند کا لحاظ رکھنا چاہیے، تاہم اولاد کے لیے بھی والدین کی رضامندی کے بغیر اپنی پسند کے رشتہ پر بضد رہنا اور اس کے لیے چھپ کر نکاح کرنے کا راستہ اختیار کرنادرست طرز عمل نہیں، بلکہ شریف خاندانوں میں اس طرح چھپ کر نکاح کو سخت معیوب سمجھا جاتا ہے اور والدین کی دعاؤں سے خالی ہونے کی وجہ سے اکثر اوقات اس طرح چھپ کر نکاح کا نتیجہ طلاق کی صورت میں نکلتا ہے، لہذا صورت مسئولہ میں سائل کا والدین کی رضامندی کے بغیر اس لڑکی سے چھپ کر نکاح کرنا درست نہیں، بلکہ عموماً اس طرح کا اقدام آگے چل کر مزید پریشانیوں کا سبب بن جاتا ہے، لہذا سائل کو اس معاملہ میں خوب احتیاط سے کام لینا لازم ہے۔
ففي سنن الترمذي: عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أعلنوا هذا النكاح واجعلوه في المساجد»، واضربوا عليه بالدفوف. (2/ 384 ت بشار)
وفي روح المعاني: وأما مخالفة أمره ونهيه فيما لا يدخل على الولد فيه ضرر بالكلية وإنما هو مجرد إرشاد للولد فلا تكون عقوقا وعدم المخالفة أولى اه كلام البلقيني «وذكر بعض المحققين» أن العقوق فعل ما يحصل منه لهما أو لأحدهما إيذاء ليس بالهين عرفا. ويحتمل أن العبرة بالمتأذي لكن لو كان الوالد مثلا في غاية الحمق أو سفاهة العقل فأمر أو نهى ولده بما لا يعد مخالفته فيه في العرف عقوقا لا يفسق ولده بمخالفته حينئذ لعذره وعليه فلو كان متزوجا بمن يحبها فأمره بطلاقها ولو لعدم عفتها فلم يمتثل أمره لا إثم عليه، نعم الأفضل طلاقها امتثالا. (8/ 59)
وفي المبسوط للسرخسي: «(قال:) رضي الله عنه بلغنا عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه أن امرأة زوجت ابنتها برضاها فجاء أولياؤها فخاصموها إلى علي رضي الله عنه فأجاز النكاح، وفي هذا دليل على أن المرأة إذا زوجت نفسها أو أمرت غير الولي أن يزوجها فزوجها جاز النكاح وبه أخذ أبو حنيفة - رحمه الله تعالى - سواء كانت بكرا أو ثيبا إذا زوجت نفسها جاز النكاح في ظاهر الرواية سواء كان الزوج كفؤا لها أو غير كفء فالنكاح صحيح إلا أنه إذا لم يكن كفؤا لها فللأولياء حق الاعتراض، وفي رواية الحسن رضي الله عنه إن كان الزوج كفؤا لها جاز النكاح، وإن لم يكن كفؤا لها لا يجوز وكان أبو يوسف - رحمه الله تعالى - أولا يقول: لا يجوز تزويجها من كفء أو غير كفء إذا كان لها ولي ثم رجع وقال: إن كان الزوج كفؤا جاز النكاح، وإلا فلا ثم رجع فقال: النكاح صحيح سواء كان الزوج كفؤا لها أو غير كفء لها، وذكر الطحاوي قول أبي يوسف رحمهما الله تعالى إن الزوج إن كان كفؤا أمر القاضي الولي بإجازة العقد فإن أجازه جاز، وإن أبى أن يجيزه لم ينفسخ ولكن القاضي يجيزه فيجوز.
وعلى قول محمد - رحمه الله تعالى - يتوقف نكاحها على إجازة الولي سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء فإن أجازه الولي جاز وإن أبطله بطل إلا أنه إذا كان الزوج كفؤا لها ينبغي للقاضي أن يجدد العقد إذا أبى الولي أن يزوجها منه. (5/ 10)