میری شادی 2006 میں 35,000 روپے حق مہر معجل کے عوض طے پائی، جس کی ادائیگی میرے سابقہ شوہر نے نہیں کی، اس کے بعد تقریباً 2007 میں ہمارے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی، شادی کے بعد میرے شوہر کی طرف سے مسلسل میرے ساتھ ناروا سلوک برتا گیا، انہوں نے مجھے دھمکیاں دیں، گالم گلوچ کی، حتی کہ مجھ پر جھوٹی تہمتیں بھی لگائیں ، شادی کے ابتدائی ایام کے علاوہ انہوں نے مجھے کبھی نان و نفقہ بھی فراہم نہیں کیا، بلکہ اولاد کی بنیادی ضروریات سے بھی دستبردار ہو گئے، اس صورتحال کے باعث مجھے مجبوراً ایک نجی اسکول میں نوکری کرنی پڑی، تاکہ میں اپنی اور اپنے بیٹے کی بنیادی ضروریات پوری کر سکوں، شدید تکلیف اور مسلسل اختلافات کی بنا پر میں سنہ 2010 میں اپنے بیٹے کے ہمراہ اپنے والدین کے گھر واپس آگئی۔
واپسی کے بعد میں نے اپنے وکیل کے ذریعے عدالت میں خلع کی درخواست دائر کی اور خلع کے بدلے حق مہر سے دستبردار ہو گئی، جس کی ادائیگی میرے شوہر کی طرف سے پہلے ہی نہیں کی گئی تھی۔ میرے شوہر اور ان کے گھر والوں کو عدالت کی کارروائی کا اچھی طرح علم تھا، لیکن مجھے تنگ کرنے کے لیے وہ عدالت کے بلانے پر بھی پیش نہ ہوئے، عدم پیشی کی بنا پر عدالت نے میرے حق میں فیصلہ سنایا اور تنسیخ نکاح کا حکم جاری کر دیا۔
بعد میں میرے شوہر نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا، مگر عدم ثبوت کی بنا پر عدالت نے ان کی درخواست مسترد کر دی اور میرے وکیل کے جانب سے عدالت میں وہ ایمیل بطور ثبوت پیش کی گئیں جس سے یہ عیاں تھا، میرے سابقہ شوہر کو عدالتی کاروائی کا علم تھا، بعد ازاں عدالت نے خلع کو برقرار رکھا، خلع کے بعد میں نے اپنی عدت بھی مکمل کی۔
عدالتی فیصلے کے بعد میرے سابقہ شوہر نے تحریری طور پر مجھے بار بار سابقہ بیوی، طلاق یافتہ بیوی اور میرے والدین کو سابقہ ساس سر کہا ،اور اس نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ان سب چیزوں کے پیچھے اس کا ہی ہاتھ تھا ،اس پر وہ شرمندہ ہے، اور مجھ سے بار ہا معافی بھی مانگتارہا، بعد ازاں علیحدگی اور عدالتی فیصلے کے بعد کوئی رجوع یا صلح نہیں ہوئی۔ (اوپر بیان کردہ واقعات کے تحریری ثبوت بھی موجود ہیں۔)
ان حقائق کی روشنی میں کیا تنسیخ نکاح شریعت کے مطابق درست ہے؟
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے ، جو کہ عموماً یکطرفہ عدالتی خلع کی ڈگریوں میں مفقود ہوتا ہے، چنانچہ ایسی ڈگری کے جاری ہو جانے کے باوجود شرعاً نکاح ختم نہیں ہوتا، بلکہ بد ستور برقرار رہتا ہے۔ لہذا اگر سائلہ نے جو خلع کے فیصلہ کے کاغذات منسلک كىے ہیں انہیں بغور پڑھا گیا، اس فیصلہ کی بنیاد جن اسباب پر رکھی گئی ہے وہ اسباب فسخ نکاح کے لیے کافی معلوم نہیں ہوئے، لہذا سائلہ کے حق میں عدالت نے جو ىكطرفہ خلع کا فیصلہ دىا ہے، اگر اس فیصلہ پر شوہر یا اس کی جانب سے مقرر کردہ وکیل نے منہ زبانی یا تحریری طور پر رضامندی کا اظہار نہ کیا ہو، تو اس کی وجہ سے شرعاً میاں بیوی کا نکاح ختم نہىں ہوا ، بلکہ بد ستور برقرار رہے گا ، چنانچہ اس طرح کے خلع کی ڈگری کو بنیاد بنا کر عورت کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد بھی نہ ہوگی ۔ جبکہ میاں بیوی کے درمیان اگر نباہ کی کوئی صورت ممکن نہ رہی ہو، اور ان کا حدود شرعیہ پر قائم رہتے ہوئے اس رشتہ کو برقرار رکھنا ممکن نہ ہو، تو شوہر کو بھی چاہیے کہ وہ خلع یا طلاق بالمال کے ذریعہ عورت کو اپنے حق سے جدا کر دے ، تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں آزاد ہو سکے۔
كما في المبسوط: (قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد. [كتاب الطلاق، باب الخلع، ج:6 ص:173 ط: دار المعرفة بيروت)]
في أحكام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع (الى قوله) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها اهـ [سورة النساء، باب الحكمين كيف يعملان، ج:3 ص:152، 153 ط: دار إحياء التراث العربي بيروت).
وفي الفتاوى التاتارخانية: الخلع عقد يفتقر إلى الايجاب والقبول يثبت الفرقة ويستحق عليها العوض الخ (الفصل السادس عشر في الخلع، ج 3، ص 453، إدارة القرأن)