السلام علیکم !عرض ہےکہ میرے پاس میری ذاتی ملکیت ایک پلاٹ ہے ،جس کی قدر فروخت کم و بیش تین کروڑروپیہ کے لگ بھگ ہے، لیکن یہ پلاٹ اس وقت تک قابل فروخت نہیں ہو سکتا، جب تک اس پر تقریباً بیس لاکھ روپے نہ خرچ کیے جائیں، جن کا انتظام فی الوقت ممکن نہیں ، اور اس کے بغیر پلاٹ فروخت کرنے کی صورت میں زبردست مالی خسارہ ہونے کا امکان ہے، ایک دوست کے مشورے سے طریقہ زیر غور ہے، اس کے از روئے شریعت جائز نا جائز ہونے کے بارے میں جواب مراحمت فرما کر مشکور فرما میں۔
(۱): پلاٹ کی کم از کم مالیت دو کروڑ مقرر کر کے اس کے دو سو 200 حصے بنا لیے جائیں، اس طرح فی حصہ ایک لاکھ روپے کا بنے گا۔
(۲) :ان حصص میں سے بیس 20 حصص فروخت کر دیے جائیں، تو ہمیں بیس لاکھ روپے حاصل ہو جائیں گے ، خواہ یہ حصص ایک آدمی خرید کرے ،یاد دچار آدمی مل کر خریدیں ایک یا تمام حصہ دار بیس حصوں کے تناسب سے مالک کے شریک ہو جائیں گے، (۳) پلاٹ کی مکمل تیاری کے بعد پلاٹ کی بنیادی قیمت بمع اخراجات دو کروڑ بیس لاکھ ہو جائے گی۔
(۴) چھ یا آٹھ ماہ یا سال بعد پلاٹ جس قیمت پر فروخت ہو( جس کا کم از کم تین کروڑ تک قوی امکان ہے) بنیادی قیمت منہا کر کے منافع میں سے بقدر حصہ منافع شراکت داروں میں تناسب کے لحاظ سے تقسیم کر دیا جائے۔
(۵) فرض کریں پلاٹ دو کروڑ اسی لاکھ میں فروخت ہوتا ہے تو منافع ساٹھ لاکھ روپے حاصل ہوتا ہے تو دو سو حصوں میں تقسیم کرنے سے فی حصہ منافع بیس ہزار روپے فی حصہ کی نسبت سے تقسیم ہوتا ہے اور اسی طرح اگر پلاٹ زیادہ قیمت پر فروخت ہوتا ہے با ہمی شرح منافع کی تقسیم بھی اسی نسبت سے بڑھ جائے گی یعنی اگر کسی نے ایک لاکھ روپیہ سے شرکت کی تو اس کو ایک لاکھ تیس ہزار ملیں گے اور اگر کسی نے بیس لاکھ سے شرکت کی تو اس کو بیس لاکھ جمع چھ لاکھ منافع کل چھبیس لاکھ واپس ملیں گے ؟ براہ کرم جواب سے مطلع فرمائیں کہ یہ طریقہ جائز ہو گا؟ شکریہ
صورت مسئولہ میں مذکورہ طریقے سے پلاٹ میں شراکت داری کا معاملہ کرنا شرعا بھی جائز اور درست ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی اور شرط فاسد نہ لگائی گئی ہو۔
كما في الدر المختار: وشرعا (عبارة عن عقد بين المتشاركين في الأصل والربح) جوهرة. (وركنها في شركة العين اختلاطهما، و في العقد اللفظ المفيد له) وشرط جوازها كون الواحد قابلا للشركة (وهي ضربان: شركة ملك، وهي أن يملك متعدد) اثنان فأكثر (عينا أو دينا) اھ (4/ 299) والله أعلم بالصواب
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 1شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0