کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ مدارس میں اکثر طلباء شریک ہوکر چائے وغیرہ کا بندوبست کرتے ہیں تو اگر ان میں سے کسی کا مہمان آجائے تو اسی مشترکہ مال سے اس کو چائے پلانا کیسا ہے؟
نیز اسی مالِ مشترکہ سے اساتذہ کرام کی دعوت کرنے کا کیا حکم ہے؟ از راہِ کرم مسئلہ واضح فرماکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً
اگر تمام شرکاء عاقل و بالغ اور خود مختار ہوں اور اس مشترکہ فنڈ سے کسی مہمان وغیرہ کے اکرام پر بخوشی راضی ہوں اور دوسرے شرکاء سے اس کی صراحت بھی کروالی جائے تو اس صورت میں یہ اکرام بلاشبہ جائز اور درست ہے ورنہ اس سے احتراز اور اپنی جیب خاص سے اپنے مہمان وغیرہ کا اکرام لازم ہے۔
وفی المشکوٰۃ: عن ابی حرۃ الرقاشی عن عمہٖ قال قال رسول اﷲ ﷺ الا لا تظلموا الا لا یحل مال امریٔ الا بطیب نفسٍ منہ، رواہ البیہقی فی شعب الایمان۔ (ج۱، ص۲۵۵)-
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0