ہمارے پیارے والد نے دو منزلہ گھر چھوڑا ، جس کی مارکیٹ ویلیو تقریباً (12000000) پاکستانی روپے (ایک کروڑ بیس لاکھ) ہے ، اس کے علاوہ اس نے سرمایہ کاری کے طور پر تقریباً 2,900,000 (انتیس لاکھ) پاکستانی روپے ایک بیٹے کو دیے ، اور وہ ماہانہ کچھ منافع تقریباً 50 ہزار ادا کرتا ہے ، ہم 4 بھائی ایک بہن اور والدہ الحمدللہ ہیں ،سوال یہ ہے کہ ہم جائیداد کی تقسیم کیسے کریں گے؟سوال (2) : ایک بیٹے کے پاس رقم (پہلے ہی والد نے سرمایہ کاری کر رکھی ہے ، (اوپر ذکر کیا گیا ہے) جو پہلے ہی ترکہ کے لئے اہل ہے ، کیا وہ رقم واپس کرے ؟ اور سب کو تقسیم کرے ؟ یا جاری رکھے ؟ اگر وہ جاری رکھے ، اور منافع پیدا کرے ، تو وہ خاندان کے ہر فرد میں کیسے تقسیم کرے گا؟
برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں ، جزاک اللہ خیرا ۔
نوٹ : سائل نے بتایا کہ مذکور انتیس (29) لاکھ روپے والد نے بطورِشراکت دیے تھے ،البتہ گھریلو معاملہ تھا ،اس لئے نفع و غیرہ کا کوئی تناسب طے نہیں ہوا تھا ،سائل کو اپنے چلتے کاروبار میں پیسوں کی ضرورت تھی ،اس نے والد کو کہا کہ آپ ریٹائرڈ ہیں ،اور خرچہ و غیرہ کی ضرورت ہے ، آپ مجھے پیسے دے دیں ،میں کچھ نہ کچھ منافع دیتا رہوں گا ۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق سائل نے والدِ مرحوم سے کاروبا ر کی غرض سے جس وقت رقم لی تھی ،اس وقت چونکہ سائل اور اس کے والدِ مرحوم کے درمیان منافع کی تقسیم کے لئے کوئی فیصدی تناسب طے نہیں ہوا تھا ، اس لئے یہ صورت شرکتِ فاسدہ کی ہے، چنانچہ مذکور رقم (انتیس لاکھ ) سے کاروبار میں والد کے انتقال تک جتنا نفع ہوا ہو ، وہ والدِ مرحوم کی ملکیت شمار ہوگا ، جوکہ سائل سمیت تمام و رثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کیا جائے گا ، اور اس عرصے میں سائل نےجو کاروباری معاملات سر ِانجام دیے ہیں ، وہ اپنےعمل کے اجرتِ مثل کا حقدار ہوگا ،
جبکہ سائل کے والدِ مرحوم کی وفات کے ساتھ شرکت کا یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے، چنا نچہ اب سائل کے ذمہ مذکور رقم میں سے باقی ورثاء کا حق انہیں واپس کر دینا لازم اور ضروری ہے البتہ اگر سارے ورثاء مذکور رقم کو کاروبار میں رکھے رہنے پر رضا مند ہوں ، تو شرعاً اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ، اور اس دوسری صورت میں مذکور رقم کا منافع تمام ورثاء کے درمیان تقسیم ہوگا ،
تا ہم اس صورت میں سائل کو چاہیئے کہ دیگر ورثاء کے ساتھ ازسرِ نو معاملہ کرکے منافع کی تقسیم کے لئے کوئی فیصد تناسب طے کرلے ،تاکہ شرکت کا معاملہ درست منعقد ہو ،اور پھر طے شدہ تناسب کے مطابق منافع تقسیم کیا جائے ۔
کما فی تنویر الابصار : فصل في الشركة الفاسدة : (لا تصح شركة في احتطاب واحتشاش واصطياد واستقاء وسائر مباحات)،(الی قولہ) و ما حصله أحدهما بإعانة صاحبه فله و لصاحبه أجر مثله (الی قولہ)،( و الربح في الشركة الفاسدة بقدر المال ، و لا عبرة بشرط الفضل ) فلو كل المال لأحدهما فللآخر أجر مثله كما لو دفع دابته لرجل ليؤجرها و الأجر بينهما، فالشركة فاسدة و الربح للمالك و للآخر أجر مثله ، و كذلك السفينة و البيت الخ ۔(4/326) ۔
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0