السلام علیکم !میں نے سال ۲۰۰۰ میں ایک چھوٹا سا کاروبار شروع کیا جو کہ ایک اور شخص کیساتھ %۵۰ , %۵۰ کی بنیاد پر تھا, یعنی آدھا آدھا سرمایہ اور دونوں کی محنت , میں نے اپنا آدھا حصہ جو تقریباً ۳۵۰۰ پاؤنڈ تھےدیے ,میرے حصہ کے پیسے آدھے میرے بھائی نے دیے, (ساڑے سترہ سو پاؤنڈ ) , ابھی تک میں اور میرا کاروباری شریک ایک ساتھ ہیں اور کاروباری تمام ذمہ داریاں ہماری ہیں, (میرا بھائی اپنا علحیدہ کام کرتا ہے)اب میں اپنے بھائی کو اس کا حصہ دینا چاہتا ہوں اپنی طرف سے ،تحقیق اور مشورہ کے بعد , بھائی کو اپنے حصہ کا چوتھائی حصہ دینا چاہتا ہوں جو کہ آج کل مقبول طریقہ رائج ہے، یعنی پچاس فیصد حصہ محنت والے کا (جو کہ میں ہوں)اور پچاس فیصد سرمایہ لگانے والے کا(آدھا میرا اور آدھا بھائی کا )کاروبار شروع کے وقت میرے اور بھائی کے درمیان کوئی ایگر یمںٹ یا زبانی شیئرز کی تقسیم نہیں ہوئی، لیکن میں اس کا حصہ جو بنتا ہے وہ دینا چاہتا ہوں، اگرچہ کوشش یہی ہے کہ احسان کا معاملہ کیا جاۓ لیکن کم از کم آخری حد یا حلال حرام کی وضاحت یا باؤنڈری مقرر ہو جاۓ، دوسرا یہ کہ میں نے او ر میرے بزنس پارٹنر نے اپنی تنخواہ تقریباً آدھی مقرر کی تاکہ باقی رقم بچا کر پراپرٹی میں انویسٹمںٹ کی جاۓ , اور اب تک جو نفع حاصل ہوا وہ واپس پراپرٹی کے بزنس میں ہی لگاتے رہے , اور اس کو ہمارے مین بزنس سے علیحدہ رکھا , ہمارا مین بزنس اب تقریباً چار لاکھ پاؤنڈ کا ہے، مین بزنس کا نفع اسی میں لگاتے رہے،
پہلا سوال ، بھائی کا شرعاً کتنا حصہ بنتا ہے ?
دوسرا سوال۔بھائی کو صرف مین بزنس میں حصہ دوں یا کہ جو ہماری پرائیویٹ بچت سے جو پراپرٹی لی ہے اس میں سے بھی ؟
راہنمائی فرمائیں تاکہ بھائی اپنے حق سے محروم نہ رہے(اور میری ۲۳ سال کی محنت کا بدلہ بھی مجھے مل جاۓ) اور میری کمائی بھی ناجائز نہ ہو۔
جزاک اللہ خیراً۔
سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں ہے کہ سائل کے بھائی نے مذکور آدھی رقم(ساڑھے سترہ سو پاؤنڈ)سائل کو بطورِ قرض دی تھی یا بطورِ شراکت یا بطورِ تبرع کے،تاکہ اس کے مطابق حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جاتا -
تاہم اگر سائل کے بھائی نے مذکور رقم سائل کو بطورِ قرض دی ہو بطورِ ِشراکت یا تبرع کے نہ دی ہو تو سائل پر اب صرف مذکور رقم دینا شرعاً لازم ہے،البتہ اگر سائل اپنی طرف سے بطورِ احسان بھائی کو کچھ زائد رقم دیدے تو اس کا اسے مکمل اختیار حاصل ہے،لیکن اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو اس کی مکمل وضاحت کر کے سوال دوبارہ ارسال کردیں،انشاءاللہ غور فکر کے بعد حکمِ شرعی سے آگاہ کردیا جائےگا۔
کما فی تنویرالابصار : (القرض) ھو عقد مخصوص یرد علی دفع مثلی لیرد مثلہ اھ(7/388)۔
و فی شرح الاشباہ والنظائر : الدیون تقضی بامثالھا اھ(2/349)۔
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0