السلام علیکم !
بعد عرض یہ ہےکہ میں ایک دوست کے ساتھ اپنے پیسے انوسٹ کرنا چاہتا ہوں , جس کے وہ مجھے میرے انوسمنٹ کے %۵کے حساب سے ماہانہ منافع دے گا یا میر ے انوسمنٹ کے پورے منافع سے کچھ فیصد مجھے دے گااور باقی اپنےساتھ رکھےگا , اس کا کاروبار کچھ یوں ہے کہ وہ حلال اشیاء کے کمپنیز کے شیئرزخریدتا ہے ، وہ شیئرز مندرجہ ذیل پالیسیز کے مطابق خریدتا ہے۔
۱- وہ شیئرز آن لائن خریدتا ہے
۲۔ وہ شیئرز سیدھا کمپنی سے خریدتا ہے , درمیان میں کسی اور بندے سے جو پہلے سے شیئرز کا خریدار ہو , سے نہیں خریدتا۔
۳- وہ شیئرز حلال کمپنیز کا خریدتاہے , کسی حرام چیز شراب وغیرہ کے نہیں خریدتا ہے-
اب سوال یہ ہےکہ کیا یہ منافع میرے لئے حلال ہے یا حرام؟یا کن کن اصول جو کہ اوپر تحریر میں نہیں ہے,کو مدنظر رکھ کر میرے لئے یہ منافع حلال ہوسکتا ہے؟
سب سے پہلے تو سائل اور اس کا پارٹنر اپنے اپنے سرمایہ کا تناسب معلوم کر لیں، تا کہ نقصان کی صورت میں ہر پارٹنر اپنے سرمایہ کے تناسب سے نقصان کا ذمہ دار ہو ، اس کے بعد باہمی رضا مندی سے منافع میں ہر پارٹنر کیلئے فیصدی حصہ طے کر لیا جائے ،مثلاً ایک پارٹنر کو ساٹھ یا ستر فیصد ملے گا اور دوسرے کو چالیس یا تیس فیصد ملے گا، اس طرح معاملہ کرنے سے دونوں کے درمیان پارٹنر شپ کا معاملہ کرنا شرعاً درست ہو جا ئے گا۔
جہاں تک شیئر کے کاروبار میں انویسٹمنٹ کا تعلق ہے تو اس کے جواز کی چند شرائط ہیں جو کہ درجِ ذیل ہیں:
(1)جس کمپنی یا ادارے کے شیئرز خریدنے ہوں اس کا اصل کاروبار حلال ہو ۔
(2)فیس ویلیو سے کم و بیش پر فروخت کرنے کیلئے ضروری ہے کہ کمپنی کے اثاثے صرف نقد کی شکل میں نہ ہوں , ورنہ فیس ویلیو سے کم و بیش پر فروخت کرنا جائزنہیں۔
(3)- نفع کی ماہانہ یا سالانہ کوئی خاص رقم یقینی طور پرمقرر نہ ہو بلکہ آمدنی کے فیصد کے حساب سےنفع مقرر کیا گیا ہو۔
(4)نفع اور نقصان دونوں میں شراکت ہو۔
(5)سالانہ اجلاس (AGM) میں سود کے خلاف آواز اٹھائی جائے ۔
(6) کمپنی کی آمدنی میں اگر تھوڑی بہت، سود کی رقم شامل ہو ، تو اسکے بقدر نفع سے الگ کر کے ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کر دیں ۔
(7) شیئرز پر قبضہ اور ڈیلیوری سے پہلے ہی ان کو آگے فروخت نہ کیا جائے اور شیئرز پر قبضہ یہ ہے کہ شیئر ہولڈر اس کے نفع و نقصان کا حقدار بن جائے ،جو کپ(رسک میں آنے ) سے تعبیر کیاجاتا ہے۔
فی الدر المختار : (و شرطها) أي شركة العقد (كون المعقود عليه قابلا للوكالة) فلا تصح في مباح كاحتطاب (و عدم ما يقطعها كشرط دراهم مسماة من الربح لأحدهما) لأنه قد لا يربح غير المسمى اھ(4/305)۔
و فی الہدایۃ : قال : "و لا تجوز الشركة إذا شرط لأحدهما دراهم مسماة من الربح" لأنه شرط يوجب انقطاع الشركة فعساه لا يخرج إلا قدر المسمى لأحدهما ، و نظيره في المزارعة . اھ(3/11)۔
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0