نکاح

کفو دیکھنے کی ایک صورت کا حکم

فتوی نمبر :
94121
| تاریخ :
2026-04-12
معاملات / احکام نکاح / نکاح

کفو دیکھنے کی ایک صورت کا حکم

ایک لڑکا اور لڑکی نے اپنے والدین کی مرضی کے بغیر نکاح کر لیا۔ نکاح کے وقت نہ لڑکے کے والدین کو اور نہ ہی لڑکی کے والدین کو اس نکاح کا علم تھا۔

نکاح کے وقت لڑکا اپنے والد کے خاندانی کاروبار میں کام کرتا تھا۔ یہ کاروبار مکمل طور پر اس کے والد کی ملکیت تھا اور لڑکے کا اس کے مالی معاملات، ملکیت یا فیصلوں میں کوئی اختیار نہیں تھا۔ لڑکا صرف معاون اور اضافی نوعیت کے کام کرتا تھا، جیسے سامان لانا لے جانا، ڈلیوری اور ٹرانسپورٹ کے کام وغیرہ، جن کے بدلے اسے بہت کم تنخواہ دی جاتی تھی جو نان و نفقہ کے لیے کافی نہیں تھی۔

لڑکے کے پاس کوئی ذاتی کاروبار، مستقل آمدنی، جائیداد یا بچت موجود نہیں تھی۔ اس کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ صورتحال بھی ایسی نہیں تھی کہ وہ خود مختار طور پر کوئی مستحکم ملازمت حاصل کر کے اپنی بیوی کا نان و نفقہ ادا کر سکے۔

لڑکے اور لڑکی کے درمیان پانچ ہزار روپے حق مہر طے ہوا تھا جو لڑکے نے ادا کر دیا، تاہم یہ مہر مہرِ مثل کے مقابلے میں بہت کم تھا۔ اگر لڑکا کل کو مہرِ مثل ادا بھی کر دے تو اسے کما کر واپس ادا کرنے کی عملی استطاعت لڑکے میں موجود نہیں تھی، کیونکہ اس کے پاس نہ کوئی جائیداد تھی، نہ سرمایہ اور نہ ہی کوئی مستقل آمدنی۔

لڑکا ایک ایسے نسبتاً خوشحال خاندان سے تعلق رکھتا تھا جس کا اپنا کاروبار تھا۔ اس گھر میں دو بیٹے تھے، لیکن دونوں ہی کاروبار میں حقیقی طور پر شامل نہیں تھے۔ وہ صرف اپنے والد کے زیرِ کفالت زندگی گزار رہے تھے اور محدود حد تک وہی کام کرتے تھے جو انہیں دیے جاتے تھے۔ کاروبار میں ان کا کوئی باقاعدہ حصہ یا مالی کنٹریبیوشن نہیں تھا۔ ان کے مالی حالات اتنے اچھے تھے کہ انہیں کام کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی، لیکن وہ سب کچھ والد کی ملکیت اور کنٹرول میں تھا، اور ان کا ذاتی طور پر کوئی اثاثہ یا اختیار موجود نہیں تھا۔

نکاح کے وقت لڑکے کی نیت یہ تھی کہ جب اس کے والدین کو نکاح کا علم ہوگا تو وہ ابتدا میں اعتراض کریں گے، لیکن بعد میں وہ راضی ہو جائیں گے اور اسے خاندانی کاروبار میں شامل کر لیا جائے گا، اور وہ مشترکہ خاندانی نظام میں اسی گھر میں رہتے ہوئے زندگی گزارے گا۔ یہ سب اس کی ذاتی توقعات اور اندازوں پر مبنی تھا، جبکہ والدین کی رضامندی پہلے سے حاصل نہیں تھی۔

بعد میں جب اس نکاح کا علم ہوا تو لڑکی کے والدین نے اس رشتے پر اعتراض کیا، اور لڑکے کے والد نے بھی اس نکاح کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کسی بھی قسم کی مالی یا خاندانی ذمہ داری لینے سے منع کر دیا۔

اس پوری صورتحال میں شرعی طور پر یہ معلوم کرنا مقصود ہے کہ کیا لڑکا مالی اور عملی استطاعت کے اعتبار سے لڑکی کے لیے کفوء ہے یا اس کی موجودہ مالی کمزوری، غیر مستقل آمدنی اور نان و نفقہ ادا کرنے کی عدم واضح استطاعت کی وجہ سے یہ رشتہ غیر کفوء کے زمرے میں آتا ہے۔

.…

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جواب سے پہلے بطور تمہید دو باتوں کی وضاحت ضروری ہے تاکہ حکم شرعی سمجھنے میں آسانی ہو: پہلی بات یہ ہے کہ احادیث مبارکہ کی رو سے عند الاحناف عاقلہ بالغہ لڑکی اپنی مرضی سے نکاح کرسکتی ہے۔ اور اگر یہ نکاح کفوء میں ہو تو یہ بلا شبہ منعقد ہوجاتا ہے البتہ غیر کفوء میں متقدمیں علماء احناف کے ہاں بھی یہ نکاح درست منعقد ہوگا لیکن لڑکی کے اولیاء کو بذریعہ عدالت اسے فسخ کرانے کا اختیار ہوگا۔ البتہ متاخرین کے نزدیک یہ نکاح درست منعقد نہ ہوگا بلکہ فاسد ہوگا۔
دوسری بات یہ ہے کہ کفاءت کے معتبر ہونے میں جہاں جہاں حسب ونسب اور خاندانی پس منظر کا لحاظ رکھا گیا ہے وہاں شوہر کا مالدار ہونے کا بھی ذکر ہے لیکن فقہاء کرام نے اس مالداری اور وسعت کی تفصیل یہ بیان کی ہے کہ شوہر اپنی بیوی کا حق مہر اور عرف کے مطابق نان ونفقہ کی ادائیگی پر قادر ہو بہت زیادہ وسعتِ مالی کو ضروری قرار نہیں دیا، لہذا سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق لڑکا اور لڑکی کا اپنے خاندان کے بڑوں کے علم میں لائے بغیر چھپ کر نکاح کرنا اگر چہ عرفاً اور اخلاقاً ناپسندیدہ عمل ہے جو شریف خاندانوں میں انتھائی معیوب سمجھا جاتا ہے لیکن اگر لڑکے کا خاندانی بیک گراؤنڈ مالی لحاظ سے مستحکم ہو اور عرف کے مطابق بقدر گزارہ بیوی کے نان ونفقہ کی ادئیگی پر قدرت رکھتا ہو تو ان دونوں کا نکاح شرعاً درست منعقد ہوچکا ہے۔ اس لئے ان دونوں پر لازم ہے کہ دونوں طرف خاندان کے بڑوں کو اعتماد میں لیکر اس رشتے کو آگے بڑھائے، ورنہ لڑکی کو شوہر سے طلاق یا خلع لئے بغیر دوسری جگہ نکاح کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في البدائع : وأما الثاني فالنكاح الذي الكفاءة فيه شرط لزومه هو إنكاح المرأة نفسها من غير رضا الأولياء لا يلزم، حتى لو زوجت نفسها من غير كفء من غير رضا الأولياء لا يلزم.اھ(فصل : إنكاح المرأة نفسها من غير رضا الأولياء، ج: ٢،ص: ٣١٧، مط: سعيد)
وفي الدر المختار: (وله) أي للولي (إذا كان عصبة) ولو غير محرم كابن عم في الأصح خانية، وخرج ذوو الأرحام والأم والقاضي (الاعتراض في غير الكفء) فيفسخه القاضي ويتجدد بتجدد النكاح (ما لم) يسكت حتى (تلد منه) لئلا يضيع الولد وينبغي إلحاق الحبل الظاهر به (‌ويفتى) ‌في ‌غير الكفء (بعدم جوازه أصلا) وهو المختار للفتوى (لفساد الزمان).اه(باب الولي، ج: ٣، ص: ٥٧، مط: سعيد)
وفي رد المحتار: قالوا معناه معتبرة في اللزوم على الأولياء حتى أن عند عدمها جاز للولي الفسخ. اهـ. فتح وهذا بناء على ظاهر الرواية من أن العقد صحيح، وللولي الاعتراض، أما على رواية الحسن المختارة للفتوى من أنه لا يصح.(باب الكفاءة، ج: ٣، ص: ٨٤، مط: سعيد)
وفی الھدایۃ: قال: "و" تعتبر "في المال وهو أن يكون مالكا للمهر والنفقة" وهذا هو المعتبر في ظاهر الرواية حتى إن من لا يملكهما أو لا يملك أحدهما لا يكون كفؤا لأن المهر بدل البضع فلا بد من إيفائه وبالنفقة قوام الازدواج ودوامه الخ(باب الکفاءۃ،ج:2،ص:772،مط:مکتبۃ البشریٰ)
وفي الدر المختار: و) يثبت (لكل واحد منهما فسخه ولو بغير محضر عن صاحبه دخل بها أو لا) في الأصح خروجا عن المعصية. فلا ينافي وجوبه بل يجب على القاضي التفريق بينهما (وتجب العدة بعد الوطء) لا الخلوة للطلاق لا للموت (من وقت التفريق) أو متاركة الزوج وإن لم تعلم المرأة بالمتاركة في الأصح.
وفي رد المحتار: أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا.
وفيه أيضاً : قوله في الأصح) وقيل بعد الدخول ليس لأحدهما فسخه إلا بحضرة الآخر كما في النهر وغيره.
وفي رد المحتار: (قوله أو متاركة الزوج) في البزازية: المتاركة في الفاسد بعد الدخول لا تكون إلا بالقول كخليت سبيلك أو تركتك ومجرد إنكار النكاح لا يكون متاركة. أما لو أنكر وقال أيضا اذهبي وتزوجي كان متاركة والطلاق فيه متاركة لكن لا ينقص به عدد الطلاق، وعدم مجيء أحدهما إلى آخر بعد الدخول ليس متاركة لأنها لا تحصل إلا بالقول.(الى قوله) ورده الخير الرملي بأن الطلاق لا يتحقق في الفاسد فكيف يقال إن المتاركة في معنى الطلاق، فالحق عدم الفرق، ولذا جزم به المقدسي في شرح نظم الكنز إلخ، وتمامه فيما علقناه على البحر وسيأتي قبيل باب الطلاق قبل الدخول عن الجوهرة طلق المنكوحة فاسدا ثلاثا له تزوجها بلا محلل، قال ولم يحك خلافا فهذا أيضا مؤيد لكون الطلاق لا يتحقق في الفاسد ولذا كان غير منقص للعدد بل هو متاركة كما علمت، حتى لو طلقها واحدة ثم تزوجها صحيحا عادت إليه بثلاث طلقات،اھ (مطلب في النكاح الفاسد، ج: ٣، ص: ١٣٤،١٣٣.١٣٢، مط: سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ الف زر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94121کی تصدیق کریں
0     10
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات