،محترم مفتیان کرام ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
میرا تعلق ایک ہندو گھرانے سے تھا ۔ میں نے اسلام قبول کر کے اپنے شوہر سے نکاح کیا ۔ لیکن ماں باپ کے گھر آنے جانے کی وجہ سے کچھ پرانی حرکتیں کر بیٹھی ، جس کی وجہ سے میں اسلام سے خارج ہوگئی اور میرے شوہر نے مجھ سے علیحدگی اختیار کرلی ،بعد میں ہم نے دارالافتاء سے فتویٰ لیا ، جس میں ہمیں ہدایت دی گئی کہ میں دل سے توبہ کر کے دوبارہ اپنے شوہر سے نکاح کر لوں ، اور اب شریعت کے مطابق ان کے ساتھ رہ سکتی ہوں میری موجودہ مجبوری یہ ہے کہ میں اپنے والدین کے گھر نہیں رہ سکتی کیونکہ وہاں میرے دین و ایمان کو خطرہ ہے ، میں سسرال ( شوہر کے خاندان ) میں بھی نہیں رہ سکتی کیونکہ وہاں میرے لئے شدید مسائل اور خطرات ہیں ۔ اسی وجہ سے میرے شوہر زیادہ تر رات میرے پاس گزارتے ہیں تاکہ میری حفاظت اور رہائش کا مسئلہ حل ہو سکے
میرے لئے رہنے کا واحد سہارا میرے شوہر ہی ہے ، سوال یہ ہے کہ اگر میرے شوہر سفر پر جائیں تو کیا میری ان مجبوریوں کی وجہ سے یہ جائز ہے کہ وہ مجھے اپنے ساتھ رکھیں ، چاہے اس دوران پہلی بیوی کی باری (نوبت ) متاثر ہوجائے ؟ نیز کیا راتوں کی تقسیم میں بھی اس مجبوری کی وجہ سے کوئی رعایت ہے کہ شوہر زیادہ وقت میرے پاس گزاریں ؟
برائے کرم میری حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں تاکہ میں اور میرے شوہر شریعت کے مطابق عمل کر سکیں ۔
واضح ہو کہ سفر میں شوہر کے ذمہ بیویوں کے درمیاں برابری لازم اور ضروری نہیں بلکہ شوہر دو بیویوں میں سے جس کو چاہے اپنے ساتھ سفر پر لے جاسکتا ہے البتہ بہتر یہ ہیکہ کسی ایک بیوی کو سفر پر لے جانے کے لئے وہ قرعہ اندازی کرے تاکہ بیویوں کی دلجوئی ہوسکے ، چنانچہ سائلہ کا شوہر اگر سفر میں اپنے ساتھ سائلہ ہی کو رکھے ( خصوصا جب اسے تحفظ دینا ضروری ہو )تو شرعا اس میں کوئی حرج نہیں البتہ سفر کے علاوہ عام حالات میں شب باشی (اور رات گزارنے )میں چونکہ دو بیویوں کے درمیان برابری شرعا لازم اور ضروری ہے ، لہذا سائلہ کے شوہر کے لئے رات گزارنے میں سائلہ کو ترجیح دینا اور سائلہ کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا دوسری بیوی کی حق تلفی پر مبنی عمل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں البتہ اگر دوسری بیوی سے اجازت لیکر ایسا کیا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ،جبکہ سائلہ نے سسرال میں رہنے کی صورت میں درپیش مسائل اورخطرات کی وضاحت نہیں کی تا کہ اس کے متعلق کوئی حل بتایا جاتا ،تاہم اگر وہ واقعی اور حقیقی نوعیت کے مسائل ہو ں تو ان کے حل کے لئے دونوں بیوں کی رہائش گاہیں ایک دوسرے کے قریب رکھ کر یا کوئی اور مناسب تدبیر اختیا کی جاسکتی ہے۔
کما فى الهداية: ولا حق لهن في القسم حالة السفر فيسافر الزوج بمن شاء منهن والأولى أن يقرع بينهن فيسافر بمن خرجت قرعتها.... ولأن القسم من حقوق النكاح ولا تفاوت بينهن في ذلك والاختيار في مقدار الدور إلى الزوج لأن المستحق هو التسوية دون طريقة والتسوية المستحقة في البيتوتة لا في المجامعة لأنها تبتني على النشاط...... وإن رضيت إحدى الزوجات بترك قسمها لصاحبتها جاز.(ج :١،ص:٢١٦،مط : دار احياءا التراث)