نکاح

خاندان کی مرضی کے خلاف لڑکی کا دوسری جگہ شادی کرنے پر بضد ہونا کیا درست طرز عمل ہے؟

فتوی نمبر :
93762
| تاریخ :
2026-04-03
معاملات / احکام نکاح / نکاح

خاندان کی مرضی کے خلاف لڑکی کا دوسری جگہ شادی کرنے پر بضد ہونا کیا درست طرز عمل ہے؟

ایک سنگین مسئلہ درپیش ہے۔ جس پر رہنمائی درکار ہے۔میرے ایک بہترین دوست نے میرے ساتھ دھوکا کیا اور میری منگیتر (جو میری کزن بھی ہے) کے ساتھ خفیہ طور پر تعلقات استوار کر لیے۔ اس نے میری کزن کو میرے خلاف ورغلایا، جس کے نتیجے میں وہ اب اسی سے شادی کرنے پر بضد ہے اور گھر والوں کی مخالفت کر رہی ہے۔ہم سب گھر والے اس رشتے کے سخت خلاف ہیں کیونکہ وہ شخص دھوکے باز ثابت ہوا ہے،کزن کا کہنا ہے کہ پسند کی شادی اس کا اسلامی حق ہے، لیکن وہ چوری چھپے اس سے فون پر باتیں کرتے ہوئے بھی پکڑی گئی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ وہ بات چیت چھوڑ دے گی مگر شادی اسی سے کرے گی، اس کی ماں اس کے سامنے رو رو کر منتیں کر رہی ہے، لیکن وہ اپنی ضد سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، حالانکہ وہ پانچ وقت کی نمازی ہے اور پرہیزگار سمجھی جاتی ہے۔ اس کا رویہ اپنی ماں کا دل دکھا رہا ہے، جو کہ ایک گناہ ہے۔چونکہ وہ لڑکا اس کا کلاس فیلو رہا ہے، ہمیں ڈر ہے کہ اگر یہ بات باہر نکلی تو خاندان، محلے اور دوستوں میں ہماری سخت بدنامی ہوگی اور فتنہ کھڑا ہو جائے گا۔اس معاملے میں اسلام کیا کہتا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ شریعت میں اگرچہ نکاح کے وقت لڑکا اور لڑکی کے پسند اور اختیا ر کو پیش نظر رکھا گیا ہے اور اسے اہمیت بھی دی گئی ہے لیکن اِس اختیار اور اجازت کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ لڑکا اور لڑکی دونوں کا نکاح کیے بغیر ایک دوسرے کے ساتھ میل جول رکھنا، فون پر باتیں کرنا ، بے تکلفی اختیار کرنا شرعاً جائز ہو ،بلکہ شرعا یہ حرا م اور شریف خاندانوں میں انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے، لہذا سائل کی منگیتر کا دونوں خاندانوں کی رضامندی سے سائل کے ساتھ نسبت طے ہونے کے باوجود کسی دوسرے لڑکے کے ساتھ رابطہ رکھنا اور اس سے رشتہ کے لئے اصرار کرنا انتہائی درجہ نامناسب اور غیر اخلاقی طرز عمل ہے اور ایسے رشتہ عموماً پائیدار نہیں ہوتے ،جن میں خاندان اور گھر والوں کی مرضی کے خلاف فیصلہ کرکے آغاز کیا جائے، اس لیے اولاً تو اُسے اپنے اس غیر شرعی طرز عمل سے اجتناب اور والدین کی مرضی کے مطابق نکاح کرنے کا اہتمام ضروری ہے،تاہم اگر وہ کسی صورت بھی سائل کے ساتھ نکاح کرنے پر آمادہ نہ ہو، اور اُس لڑکے سے نکاح کرنے پر بضد ہو ،تو سائل کو بھی چاہئے کہ خوامخواہ اسے اپنی انا اور ضد کا مسئلہ بنا کر بعد میں پریشانیوں میں مبتلا ہونے کے بجائے اپنے لیے کسی دوسری جگہ رشتہ کرنے کا اہتمام کرے تاکہ مستقبل کی زندگی سکون سے بسر کی جا سکے۔

مأخَذُ الفَتوی


واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ الف زر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93762کی تصدیق کریں
0     5
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات