السلام علیکم مفتی صاحب!مجھے ایک مسئلہ پوچھنا ہے،کچھ دوستوں کے درمیان مذاق میں نکاح جیسی بات ہوئی،ایک دوست نکاح کے الفاظ بول رہا تھا، لیکن کوئی مولوی یا قاضی نہیں تھا، صرف ایک ہی گواہ تھا، مہر کا ذکر ہوا تھا،میں نے چیٹ پر "قبول ہے" لکھ دیا تھا، لیکن میں اُس وقت سنجیدہ نہیں تھی، ہنسی مذاق چل رہا تھا اور میں نے دل سے نکاح قبول نہیں کیا تھا، صرف شرم کی وجہ سے لکھ دیا تھا، لڑکے نے بھی "قبول ہے" کہا تھا، میرے والدین کو بھی اس بات کا پتہ نہیں ہے،کیا اس صورت میں نکاح ہو جاتا ہے یا نہیں؟ مہربانی کرکے رہنمائی فرما دیں۔
واضح ہو کہ نکاح کرتے وقت لڑکا، لڑکی اور گواہوں کا ایک مجلس میں موجود ہونا اوران گواہوں کےسامنے اس طرح ایجاب وقبول کرنا کہ گواہ بھی اسے سن لیں صحت نکاح کے لیے شرط ہے، اس کے بغیرشرعا نکاح منعقد نہیں ہوتا، اس لیے سوال میں ذکر کردہ طریقہ کار کےمطابق جب شرعی گواہ مجلس نکاح میں موجود نہیں تھے، تو محض چیٹ پر ایجاب وقبول کرنے سے سائلہ کا نکاح اس لڑکے کے ساتھ شرعا ََمنعقد نہیں ہوا، بلکہ وہ دونوں بدستور اجنبی اور ایک دوسرے کے لیے نامحرم ہیں، اس لیے اس بنیاد پران دونوں کا ایک دوسرے کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعلق یا بے تکلفی اختیار کرنا شرعاجائز نہیں ،جس سے اجتناب لازم ہے۔
كما في الدرالختار:ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين وإن طال كمخيرة الخ(كتاب النكاح،ج:٣،ص:١٤،ط:سعيد)
وفيه ايضاََ:(و) شرط (حضور) شاهدين(حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) الخ(كتاب النكاح،ج:٣،ص:٢٣،ط:سعيد)
وفي حاشية ابن عابدين:تحت(قوله: اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد، فلو أوجب أحدهما فقام الآخر أو اشتغل بعمل آخر بطل الإيجاب؛ لأن شرط الارتباط اتحاد الزمان فجعل المجلس جامعا تيسيرا اھ(كتاب النكاح، ج: ٣ ،ص: ١٤، ط: سعيد)