کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں محمد ...ولد محمد ... نے فروری 2023 کو ... ولد .... سے نکاح کیا ،اب حال ہی میں ہم عمرہ کی سعادت حاصل کرکے آئے تو میری بیوی اپنے ماں،باپ کے گھر گئی ،اب بقول اس کے ماں باپ کے اور ایک گواہ اور ہے کہ وہ واپس نہیں آنا چاہتی ،ابھی تک ہم اولاد کی نعمت سے محروم ہیں ،اس کا ٹیسٹ کرایا تو مثبت آیا ہے اور میرا منفی آیا ۔جو قابل علاج ہے اور علاج ابھی شروع کرایا اور اب پھر ٹیسٹ کرایا تو الحمد للہ کافی بہتر ہے (رپوٹ ساتھ منسلک ہے ) میرے سسرال والے میری بیوی کو بھیجنے کو کسی صورت تیار نہیں ہورہے اس کی وجوہات بیان کی جارہی ہیں (1) کہ میں بیوی کو خرچ نہیں دیتا حالانکہ میں دیتا ہوں (2) دوسرا ان کا کہنا یہ ہے کہ ہمارے گھر میں اس سے مشقت سے کام لیا جاتا ہے حالانکہ گھر کے کام کاج کے علاوہ کوئی نہیں ، میں اپنے ماں باپ اور ایک بہن کے ساتھ ایک اچھے فلیٹ میں جس میں پانچ کمرے ہیں رہتا ہوں اور یہ ایک اچھی جگہ کلفٹن میں فلیٹ ہے (3) میری بیوی کو اس کی مرضی سے کھانے پینے نہیں دیا جاتا یہ بات بھی ان کی غلط ہے ، میں اپنی بیوی کو اپنے گھر لاکر بسانا چاہتا ہوں کوئی کمی ہے تو جائز طریقے سے اسے دور بھی کرنے کو تیار ہوں ، اب میری بیوی نے 12 فروری 2026 کو عدالت میں خلع کا مقدمہ دائر کردیا ہے جس میں میری مرضی شامل نہیں ، میں اس مسئلے کو عدالت میں حل نہیں کرنا چاہتا ہوں کیونکہ میں اس سے مطمئن نہیں ہونگا ، میں شریعت کے مطابق حل کرنا چاہتا ہوں اگر سسرال والے یا میری بیوی واپس آنے کو کسی صورت تیار نہ ہوں ، علمائے کرام میری اس خلع کے بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ میں کیسے اپنی بیوی کو آزاد کروں جبکہ ابھی تک وہ میرے نکاح میں ہے ۔
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ واقعۃ ً سائل اپنی بیوی کےتمام شرعی حقوق کی ادائیگی کے ساتھ اپنا علاج و معالجہ بھی جاری رکھا ہوا ہو اور سوال میں اس کے سسرال والوں کی طرف سے بیان کردہ وجوہات بالکل بے بنیاد ہو ں، تو ایسی صورت میں سائل کے سسرال والوں کا سائل سے بغیر کسی شرعی عذر کے طلاق کا مطالبہ کرنا یا بذریعہ عدالت خلع کی ڈگری حاصل کرنا شرعاً جائز نہیں ،اور پھر چونکہ خلع میں شرعاً شوہر کی رضامندی لازم ہے ،اس لئے اگر سائل اس خلع پر رضامند نہ ہو تو اس سے شرعاً سائل کا نکاح بھی ختم نہ ہوگا لہذا سائل کے سسرال والوں کو اپنے مذکور طرز عمل سے اجتناب لازم ہے.
جبکہ اگر سائل کی طر ف سے بیوی کے حقوق کی ادائیگی یا دیگر معاملات میں کوئی کمی کوتاہی ہو تو ایسی صورت میں بھی طلاق و خلع میں جلد بازی سے کام لیکر گھر کو اجاڑنے کے بجائے خاندان کے باثر افراد کو شامل کرکے باہمی مشاورت سے معاملہ کو سلجھا بجھاکر گھر کو بسانے کی کوشش کریں ۔ تاہم اگر تمام تر کوششوں کے باوجود سائل کے سسرال والے کسی بھی صورت اپنی بیٹی کے گھر کو بسانے پر آمادہ نہ ہو بلکہ خلع لینے پر ہی مصر ہوں تو ایسی صورت میں سائل طلاق دیکر یا مذکور خلع پر رضامندی کا اظہار کرکے اسے اپنے نکاح کے بندھن سے آزاد کرسکتا ہے ۔
کمافی ردالمحتار: قوله: للشقاق) أي لوجود الشقاق وهو الاختلاف والتخاصم. وفي القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع.(144/3)
وفیہ ایضاً : (قوله: و شرطه كالطلاق) و هو أهلية الزوج و كون المرأة محلا للطلاق منجزا، أو معلقا على الملك و أما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب و القبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، و لا يستحق العوض بدون القبول،اھ(3/441)