نکاح

بیوی کے ساتھ نہ رہنے کی وجہ سے دوسری شادی کرنا

فتوی نمبر :
92788
| تاریخ :
2026-02-28
معاملات / احکام نکاح / نکاح

بیوی کے ساتھ نہ رہنے کی وجہ سے دوسری شادی کرنا

مورخہ 2020-07-21 کو میرا نکاح ہوا، جبکہ 2022 کے آخر میں رخصتی ہوئی ۔ شادی کے دو ماہ بعد ہی ہم میاں بیوی میں بلا کسی وجہ کےجھگڑے شروع ہوگئے۔ پہلے تو مجھے لگا کہ شاید نئی نئی شادی ہے، کچھ عرصہ میں میری زوجہ گھر کے ماحول میں ایڈجسٹ ہوجائے گی، لیکن میری سوچ غلط تھی۔ شادی کے کچھ ماہ بعد اللہ نے ہمیں اولاد کی امید دی اور خیر خیریت سے اللہ نے ہمیں ایک پیاری بچی سے نواز دیا، لیکن میری زوجہ پھر بھی خود کو گھر کے ماحول کے مطابق ایڈجسٹ کرنے کو تیار نہ تھی اور ان سب کی وجہ میری ساس تھی، کیونکہ میں نے کئے بار اپنے کانوں سے میری زوجہ کو کئی بارمیرے گھر والوں کے خلاف میری ساس سے بات کرتے سنا تھا۔ بیٹی کی پیدائش کے بعد میری زوجہ بلا وجہ ناراضگی کا بہانہ بنا کے اپنے میکے چلی گئی اور جانے سے پہلے اس کے اور اسکے گھر والوں نے میرے ساتھ تلخ کلامی بھی کی اور بہانہ یہ بنایا کہ میں اپنی زوجہ کا خیال نہیں رکھتا، اسے کھانے کو کچھ نہیں دیتا وغیرہ وغیرہ، جبکہ حقیقت اسکے برعکس تھی۔ اس کے بعد ڈیڑھ سال تک میری زوجہ اپنی مرضی سے اپنے میکے بیٹھی رہی پھر میں نے ہی فون کر کے اسے منایا اور صلح کر کے گھر لے آیا۔ مشکل سے دو ماہ میرے ساتھ رہنے کے بعد پھر سے اس نے اچانک ناراضگی ظاہر کی کہ میرا تمہارے ساتھ گزارا نہیں ہے، لہٰذا مجھے تمہارے ساتھ اب نہیں رہنا، اس بار میں بھی اس کی رضا میں راضی تھا ۔ اب تقریباََ 7 ماہ ہوچکے ہیں، نہ وہ ساتھ رہنا چاہتی ہے اور نہ ہی مجھ سے خلع لے رہی ہے ۔ جب اس کے گھر والوں سے کہا کہ اس مسئلے کا کوئی حل نکالو تو وہ بھی ٹال مٹول کر رہے ہیں۔ لہٰذا میں کسی بھی برائی میں مبتلاء نہیں ہونا چاہتا اور مجھے دوسری شادی کی خواہش و طلب ہے جوکہ میرا شرعی حق ہے، جبکہ میرے اس ارادے سے متعلق میرے سسرال والے بھی بخوبی واقف ہیں اور انہیں بھی اس سے کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن مجھے اپنی حفاظت کیلئے دوسری شادی کیلئے فتوی درکار ہے، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ مستقبل میں میرے کسی ایسے فعل کو وجہ بنا کر میرے سسرال والے قانونی طور پر اسے میرے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ مقاصد نکاح میں سے ایک مقصد سکون مؤدّت و محبت کا حصول ہے، جس کے لیے میاں بیوی کا چھوٹی موٹی باتوں کا ایشو بنانے کے بجائے نظر انداز کرنا اور باہم موافقت کا پایا جانا ضروری ہے، لہذا سائل کی بیوی کا بلا وجہ سائل کے ساتھ جھگڑا کرنا اور ان کی اجازت کے بغیر والدین کے ہاں بىٹھ کر ان کے شرعی حقوق پورے کرنے میں کوتاہی کرنا شرعا جائز نہیں، اس لیے اولاً تو اسے اپنے اس غیر شرعی طرز عمل سے باز آ کر اپنا گھر بسانے کا اہتمام چاہیے، تا ہم اگر وہ اس کے لیے آمادہ نہ ہو، اور سائل کو بغیر بىوی کے رہنے کی صورت میں گناہ میں پڑنے کا اندیشہ ہو ،جبکہ وہ دوسری شادی کرنے کی صورت میں دونوں بیویوں کے حقوق کی ادائیگی اور ان میں انصاف کرنے پر قادر ہو، تو اس کے لیے دوسری شادی کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے، تاہم قانونی مشکلات سے بچنے کے لیے اگر وه دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی سے باقاعدہ تحریری اجازت لے لیں، تو یہ زیادہ بہتر ہوگا، تاکہ بعد میں قانونی پیچیدگیوں سے حفاظت ہو سکے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في القرآن الكريم: ﴿فَٱنكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ مَثۡنَىٰ وَثُلَٰثَ وَرُبَٰعَۖ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا تَعۡدِلُواْ فَوَٰحِدَةً أَوۡ مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُكُمۡۚ ذَٰلِكَ أَدۡنَىٰٓ أَلَّا تَعُولُواْ﴾ [النساء: 3]
وفي الفتاوى الهندية: وأراد أن يتزوج عليها أخرى وخاف أن لا يعدل بينهما لا يسعه ذلك وإن كان لا يخاف وسعه ذلك والامتناع أولى ويؤجر بترك إدخال الغم عليها كذا في السراجية. والمستحب أن يسوي بينهن في جميع الاستمتاعات من الوطء والقبلة وكذا بين الجواري وأمهات الأولاد ولا يجب شيء كذا في فتح القدير اهـ [كتاب النكاح، الباب الحادي عشر في القسم، ج:1 ص:341 ط: دار الفكر بيروت]

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یعقوب علی معظم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92788کی تصدیق کریں
1     28
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات