السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،
حضرات مفتیان کرام!
سوال یہ ہیکہ ہماراایک قبائلی جنگ ہوا جس میں متعدد افراد قتل ہوئے، بالآخر اس کا صلح بھی ہوا،
اس میں میرے بڑا بھائی کا بھی قتل ہوا، لیکن میرے بھائی نے اور ہمارے خاندان نے کبھی اس جنگ میں حصّہ نہ لیا اور نہ ہی میدان جنگ میں کبھی گۓ، وہ جنگ جو تھی وہ صرف قبائل کی وجہ سے ہمیں بھی لگ گئی ۔
پھر ہوا کچھ یوں کہ ہمارے ایک رشتہ دار نے جاسوسی کرتے ہوۓ دشمنوں سے رابط کرکے ہمارا پیچھا کیا، بالآخر میرے جس بھائی کا قتل ہوا، وہ بھی اس طرح ہوا کہ میرے بھائی نے ارادہ کیا تبلیغ میں جانے کا، کیونکہ ہمیں دشمن کا خوف بہت کم تھا کہ ہمیں ماریں گے، لیکن قبائل کی وجہ سے ہم انکی نظر میں ضرور تھے ۔
پھر میرے بھائی کو رائیونڈ مرکز کےلئے ٹرین اسٹیشن پر چھوڑنے ہمارا وہ رشتہ دار گیا ا ور اس
نے جاسوسی کرتے ہوئے دشمنوں سے رابطہ کرکے میرے بھائی کو قتل کروایا ۔
پھر ہم نے دشمنوں سے اپنا صلح کیا ،صلح اس طرح کیا کہ ہم نے اپنے بھائی کا خون ان کےایک مقتول کے بدلے معاف کر دیا، یعنی قبائل کی طرف سے جو چند آدمی قتل ہوۓ تھے، ان میں سے ایک کے بدلے ہم نے اپنے بھائی کا خون معاف کیا،
پھر صلح کرانے کے بعد ہمیں اپنے اس رشتہ دار پر شک تھا تو جب ہم نے اس کو قرآن دےکر پوچھا کہ ہمیں
آپ پر شک ہے، شاید آپ نے ہمارے بھائی کی جاسوسی کی تو وہ پہلے نہیں مان رہا تھا، بعد میں کچھ عرصہ بعد اس کے قابل اعتماد کزن نے ہمیں فون کرکے کہ بتایا کہ اس نے ہی تمھارے بھائی کو قتل کروایا ہے ۔
اب درج ذیل امور میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:
(1)
جب اب ہمیں یقین ہوگیا ہے کہ اسی رشتہ دار نے جاسوسی کرکے وہ ہمارے بھائی کے قتل کا سبب بنا، تو کیا شرعاً ہمیں اس سے قصاص لینے کا حق ہے؟ کیا ہم خود اسے قتل کرسکتے ہیں یا یہ حق صرف اسلامی حکومت / عدالت کو حاصل ہے؟ نیز شریعت کی رو سے ایسے شخص کی سزا کیا ہے؟
(2)
جو صلح اس طرح ہوئی کہ ہمارے بھائی کے قصاص کے بدلے ایک ایسے شخص کو قتل کردیا گیا جو حقیقی قاتل نہیں تھا — اس صلح اور اس اقدام کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اس صورت میں اب ہماری شرعی ذمہ داری کیا بنتی ہے؟
(3)
میرا بھائی بے قصور تھا اور اللہ کے راستے میں تبلیغ کے ارادے سے سفر پر جا رہا تھا کہ اسے ناحق قتل کردیا گیا۔ کیا شریعت کی رو سے ایسے شخص کو شہید کہا جا سکتا ہے یا نہیں؟
براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں مفصل رہنمائی فرمائیں تاکہ ہم اپنے اہلِ خانہ کو صحیح شرعی حکم سے آگاہ کرسکیں۔
والسلام
واضح ہو کہ مذکور صلح شرعاً معتبر ہے،اور اب چونکہ صلح ہوچکی ہے، لہذا اب جاسوسی کرکے قتل کروانے والے شخص سے قصاص کا مطالبہ کرنا یا خود اس کے قتل کا اقدام اٹھانا شرعاً جائز نہیں، جس سے بہر صورت اجتناب لازم ہے،جبکہ سائل کا بھائی اگر واقعۃً ظلماً قتل کیا گیا ہو تو وہ شرعاً شہید کہلائیگا۔
کما جاء فی التنزیل العزیز: «يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ(المائدہ،ایۃ نمبر:1)
وفی تفسیر روح المعانی: فَمَنْ تَصَدَّقَ أي من المستحقين للقصاص بِهِ أي بالقصاص أي فمن عفا عنه، والتعبير عن ذلك بالتصدق للمبالغة في الترغيب فَهُوَ أي التصدق المذكور كَفَّارَةٌ لَهُ للمتصدق كما أخرجه ابن أبي شيبة عن الشعبي وعليه أكثر المفسرين،وأخرج الديلمي عن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما أن رسول الله صلّى الله عليه وسلّم قرأ الآية فقال: «هو الرجل يكسر سنه أو يجرح من جسده فيعفو فيحط عنه من خطاياه بقدر ما عفا عنه من جسده، إن كان نصف الدية فنصف خطاياه، وإن كان ربع الدية فربع خطاياه، وإن كان ثلث الدية فثلث خطاياه، وإن كان الدية كلها فخطاياه كلها» .وأخرج سعيد بن منصور وغيره عن عدي بن ثابت «أن رجلا هتم فم رجل على عهد معاوية رضي الله تعالى عنه فأعطي دية فأبى إلا أن يقتص فأعطي ديتين فأبى فأعطي ثلاثا فحدث رجل من أصحاب النبي صلّى الله عليه وسلّم عن رسول الله عليه الصلاة والسلام قال: من تصدق بدم فما دونه فهو كفارة له من يوم ولد إلى يوم يموت»(سورۃ المائدۃ، ایۃ: 45، ج:3، ص:317، ط: دارالکتب العلمیۃ)
وفی الھدایۃ: «الشهيد من قتله المشركون أو وجد في المعركة وبه أثر أو قتله المسلمون ظلما ولم يجب بقتله دية(کتاب الصلاۃ،باب الشھید،ج:1،ص:92،ط:دار احیاء التراث العربی)