السلام علیکم !میری بہن ہندہ کی شادی زید سے ہوئی اور 14 سال گزر گئے شادی کے 4 یا 5 سال بعد ہندہ کو بکر سے پیار ہو جاتا ہے ، 14 سال بعد بکر زید کو قتل کروا دیتا ہے اور ہندہ بکر کا ساتھ دیتی ہے، اب ہندہ حوالات میں ہے اور بکر ملک سے باہر ہے جس کو پتہ نہیں پولیس پکڑتی ہے یا نہیں ؟ زید کے بھائی کا ابھی تک کہنا ہے کہ ہم دونوں کو معاف نہیں کریں گے۔ کیوں کہ یہ ہندہ اور ہمارا خالہ زاد اور تایا زاد بھائی بھی تھا تو شاید زید کے بھائی ہندہ کو اپنی خالہ اور چچا کی وجہ سے معاف بھی کر دیں ۔ لیکن وہ چاہتے ہیں کہ بچے وہ اپنے پاس رکھیں ۔ اب پاکستان کے قانون کے تحت وکیل نے بتایا کہ ہندہ بری ہو سکتی ہے اور بچے بھی قانون کے تحت لے سکتی ہے اور شوہر اپنا بیان بھی شاید واپس لے لیں کہ ہندہ ملوث نہیں ہے، اب سوال یہ ہے کے بھائی ہونے کی وجہ سے کیا ہم ہندہ کو بری کروائیں یا نہیں، یا ہم زید کے بھائیوں پر چھوڑدیں جو وہ چاہیں یا بری کروانے کے بعد بکر سے یا کسی اور سے شادی کروا دیں، یا ہم بھائی خود زید کے بھائیوں کے ساتھ مل کر حق کا ساتھ دیں ۔ اسلام کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں کہ ہندہ کے بھائیوں کوکیا کرنا چاہیے؟ کہ وہ اللہ پر نتیجہ چھوڑ کر رہا کروا دیں یا وکیل کے ذریعے خود سزا دلوائیں اس گناہ کا حصہ نہ بنیں، اس گناہ کو قبر میں ساتھ نہ لے کر جائیں اور دونوں بھائی اپنی قبر بھاری نہ کریں۔ جب کہ واقعی ہندہ ملوث ہے اور ہم بھائیوں کے مطابق ہندہ توبہ کر کے اگلی ساری زندگی نیکیوں میں گزارنے کا ارادہ نہیں رکھتی ۔
صورت مسئولہ میں جب مسماۃ ہندہ اپنے اس جرم کی وجہ سے سرکار کی تحویل میں ہے اور عدالت میں اس کا مقدمہ چل رہا ہے تو اس کے بعد اقبال جرم یا شواہد کی روشنی میں اس پر ملکی قانون کے مطابق شرعی حد جاری کرنے کا اختیار ملکی عدالتوں کے پاس ہے۔ البتہ اگر ملکی عدالت شواہد کی ناکافی ہونے کی وجہ سے اسے بری کر دیتی ہے یا مقتول زید کے ورثاء اسے معاف کر دیتے ہیں تو اس کے بعد سائل یا دیگر بھائیوں کے ذمہ اجراء حد کے لیے مزید کوشش کرنا لازم اور ضروری نہیں، تاہم عدالتی فیصلہ سے قبل سائل سمیت دیگر بھائیوں کا یہ جانتے ہوئے کہ مسماۃ ہندہ واقعۃً اس جرم میں شریک تھی تو اسے بری کرنے کی کوشش کرنا شرعادرست نہیں ، اس سے اجتناب لازم ہے۔
كما قال الله تعالى في القرآن الكريم: {وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ } [المائدة: 2]
و في سنن الترمذي: وروي عن أبي شريح الخزاعي، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من قتل له قتيل فله أن يقتل، أو يعفو، أو يأخذ الدية» (4/ 22)
و في مصنف ابن أبي شيبة: عن إسماعيل بن أمية، قال: «قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في رجل أمسك رجلا، وقتله آخر أن يقتل القاتل ويحبس الممسك» (5/ 439)