حدود و قصاص

قتل عمد کی ایک صورت کا حکم

فتوی نمبر :
72960
| تاریخ :
2024-05-05
عقوبات / حدود و سزا / حدود و قصاص

قتل عمد کی ایک صورت کا حکم

السلام علیکم ورحمۃاللہ و برکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ تین آدمیوں کا حق (قرض) زید پر تھا، انہوں نے زید کے بھائی عمرو کا پیچھا کیا، اور عمرو گاڑی پر سوار تھا، انہوں نے عمرو کی گاڑی پر گولی چلائی اس ارادے سے کہ اس کو یرغمال کر کے اس کے بھائی زید سے اپنا حق (قرض) وصول کرینگے، لیکن گولی عمرو کے بدن پر لگی جس کی وجہ سے وہ قتل ہوگیا، اور یہ قسم اٹھا کر کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اس پر روکنے کی غرض سے گولی چلائی ہے، اب ان تین آدمیوں کے بارے شریعت کا حکم واضح فرمائیں؟ کیا ان تین آدمیوں پر قصاص لازم آئیگا، اور ان کو دیت دینے کی گنجائش ہوگی یا نہیں؟ اور یہ بھی بتائیں کہ کچھ لے دیکر صلح کروانے کی گنجائش ہے یا نہیں؟ برائے مہربانی اس شرعی مسئلہ پر مدلل اور مفصل جواب عنایت فرمائیں؟جزاک اللہ خیرا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کسی انسان کا قتلِ ناحق ایسا سخت ترین گناہ کبیرہ ہے جس کی سزا جہنم ہے،اس لئے اگر کوئی شخص یا جماعت جان کر کسی شخص پر آلہ قتل سےحملہ آور ہواور وہ شخص اس حملہ سے مرجائے، اگرچہ مارنے والے کاارادہ اسے قتل کرنے کانہ ہو، تب بھی یہ قتل عمد ہی شمار ہوگا، جس کا دنیاوی حکم یہ کہ اس صورت میں قاتل قصا صاً قتل کا مستحق قرار پاتا ہے، لہذا صورت مسئولہ میں جب زید کے بھائی عمرو کو یرغمال بنانے کے لئے اس کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی جس کی زد میں آکر عمرو قتل ہوگیاتو یہ بھی شرعاً قتل عمد کے زمرےمیں آئیگا، اور اس قتل میں شریک تمام افراد قصاصاً قتل کے مستحق ہیں،البتہ اگر مقتول کے اولیاء قاتلین کے ساتھ باہمی رضامندی سے صلح پر آمادہ ہوں، تو شرعاً اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالٰی: وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا (93) الآیۃ سورۃ النسآء)۔
وفی احکام القرآن للجصاص: باب القتل العمد هل فيه كفارة: قال الله تعالى ومن قتل مؤمنا خطأ فتحرير رقبة مؤمنة فنص على إيجاب الكفارة في قتل الخطإ وذكر قتل العمد في قوله تعالى كتب عليكم القصاص في القتلى وقال النفس بالنفس وخصه بالعمد (ج3 صـ221 ط: دار إحياء التراث العربي، بيروت)
وفی الھندیۃ: أما العمد فما تعمد ضربه بسلاح أو ما يجري مجرى السلاح في تفريق الأجزاء كمحدد الخشب والحجر وليطة القصب والنار كذا في الكافي وموجب ذلك المأثم والقود إلا أن يعفو الأولياء، أو يصالحوا، ولا كفارة فيه عندنا الخ (ج6 صـ2 کتاب الجنایات الباب الاول ط: دار الفکر)۔
وفیھا ایضاً: وإذا أقر الرجلان كل واحد منهما أنه قتل فلانا، وقال الولي: قتلتماه جميعا فله أن يقتلهما الخ (ج6 صـ19 الباب الخامس ط: دار الفکر)َ
وفیھا ایضاً: وإذا اصطلح القاتل، وأولياء القتيل على مال سقط القصاص، ووجب المال قليلا كان، أو كثيرا، وإن لم يذكروا حالا، ولا مؤجلا فهو حال كذا في الهداية الخ (ج6 صـ20 الباب السادس ط: دار الفکر)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالحنان رمضان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 72960کی تصدیق کریں
1     1417
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • زنا بالجبر میں ڈی این اے ٹیسٹ - DNA Test - کے ثبوت کی حیثیت

    یونیکوڈ   اسکین   حدود و قصاص 0
  • زنا بالجبر کی صورت میں گناہگار ہونے نہ ہونے کی تفصیل

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • قتلِ عمد میں مکرِہ (مجبور کنندہ)پر قصاص کا حکم

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • کیا حضورؐ سے بذات خود کسی مجرم کو قتل کرنا یا ہاتھ کاٹنا ثابت ہے؟

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • کیا حدود آرڈنینس میں تبدیلی کے مرتکب دائرۂ اسلام سے خارج شمار ہوں گے؟

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • زانی کو از خود قتل کرنا

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • کسی کے قتل کا بظاہر سبب بننے کی ایک صورت اور اس کا حکمِ شرعی

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • قصاص سے متعلق شبہ اور اس کا جواب

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • قتل عمد کی ایک صورت کا حکم

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 1
  • آنکھ ضائع کرنے کی جنایت کا حکم

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • مقتول کی دیت معاف کرنے کا اختیار کس کو ہے؟

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 2
  • ڈپریشن کی وجہ سے بچہ کو قتل کرنے والی ماں کیلیے حکم

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • چچا زاد بھائیوں کا اپنی چچا زاد بہن کو قتل کرنے کی صورت میں دیت کا حکم

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • بیوی سے ہمبستری کرنے کی وجہ سے اگر بچہ ضائع ہو گیا تو کیا خاوند پر اس کی دیت آئے گی؟

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
Related Topics متعلقه موضوعات