حدود کے احکام میں تبدیلی لاتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے ایک یہ ترمیم کی ہے کہ زنا بالجبر کی سزا جس طرح قرآن نے بیان کی ہے، وہ مکمل طورپر ختم کردی ہے ،اس طرح اب ایک شخص جو زنا کا مرتکب ہو ،اس کو سزا نہیں دی جا سکتی ہے شرعی انداز کی، بلکہ اس کو تعزیری سزا ملے گی پاکستانی سزا وجرح کے قانون کے تحت ، جو حد نہیں ہے، اسی طرح اور بہت سی چیزیں ہیں جو اس نام نہاد تحفظِ نسواں بل میں شامل کی گئی ہیں ، میں نے صرف ایک چیز کی طرف توجہ دی ہے ۔
اسمبلی کے بہت سے ممبران کا خیال ہے کہ یہ بل اسلامی ہے اور انہوں نے اس کے حق میں ووٹ بھی دیئے ، صدر مشرف نے قوم سے خطاب میں کہا کہ اس میں کوئی غیراسلامی بات نہیں اور اس پر اپنے دستخط کرکے قانون بنا دیا ۔
میرے علم کے تحت ان تمام لوگوں نے جو اس کے حق میں اپنی رائے دی ہیں،انہوں نے قرآن کی آیت اور اللہ کے حکم کے خلاف کیا ہے تو اس طرح وہ اب مسلمان نہیں رہے ،ان کے اعمالِ صالحہ ضائع ہوئے اور انکے نکاح فسخ ہوئے اور اب اگر وہ اپنی بیویوں سے ملے تو زنا کرتےہیں ، اگر وہ اس حالت میں مرتے ہیں تو وہ کفر پر مرتے ہیں، ان کے لۓ نہ تو غسل ہے ،نہ تدفین اور نہ ہی نمازِ جنازہ ہے ، صرف توبہ ہی ان کو اسلام پر واپس لا سکتی ہے ، ان کے نکاح درست ہوسکتے ہیں ،ان کو دوبارہ حج کرنا ہوگا ۔
مذکور قانون کے جو مندرجات ہمارے سامنے آئے ہیں، وہ بلاشبہ غلط اور شریعتِ مطہرہ کے مزاج کے خلاف ہیں، اس قسم کا بِل بنا نا اورایسے ملک میں اسے جاری کرنا جس کی اساس شریعت ہو ، انتہائی درجہ بری اور ناجائز بات ہے، مگر اس بل کیو جہ سے ان کو کافر قرار نہیں دیاجاسکتا،اگر چہ اس کے بنانے والے فاسق ،فاجر ضرور ہیں ۔
فی تفسير القرطبي: الزانية والزاني فاجلدوا كل واحد منهما مائة جلدة(الی قوله)قوله:" الزانية والزاني" للجنس، وذلك يعطي أنها عامة في جميع الزناة اھ(12/ 160)۔
وفی حاشية ابن عابدين: أما لو كان بمعنى عد ذلك الفعل خفيفا وهينا من غير استهزاء ولا سخرية، بل لمجرد الكسل أو الجهل فينبغي أن لا يكون كفرا عند الكل تأمل اھ(1/ 81)۔
بیوی سے ہمبستری کرنے کی وجہ سے اگر بچہ ضائع ہو گیا تو کیا خاوند پر اس کی دیت آئے گی؟
یونیکوڈ حدود و قصاص 0